بین الاقوامی

USA Vs Iran War Complete Timeline: فروری میں تباہی، اپریل میں جنگ بندی، پھر جون میں دوبارہ جنگ، دیکھیے امریکہ اور ایران کشیدگی کی مکمل ٹائم لائن

سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ ایک غیر معمولی اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط سفارتی کشیدگی براہِ راست فوجی تصادم میں تبدیل ہو گئی، جس کے اثرات عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہوئے۔ اس تنازع کا مرکز آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) رہی، جو دنیا کی اہم ترین بحری تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

امریکہ-ایران جنگ کی ٹائم لائن

اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے 30 جون 2026، منگل کے روز ایک اہم ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں متعلقہ فریقوں اور بین الاقوامی ثالثوں کی شرکت متوقع ہے۔

فروری 2026: فضائی حملے اور خامنہ ای کی شہادت

فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں کے بعد ایران کے سرکاری ذرائع نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کی، جبکہ ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز پر فوجی ناکہ بندی نافذ کر دی۔

اپریل 2026: دو ہفتوں کی جنگ بندی

خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے اور عالمی سفارتی دباؤ کے بعد امریکہ اور ایران جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ ابتدائی طور پر دونوں ممالک نے دو ہفتوں کے لیے فائر بندی پر اتفاق کیا، جبکہ ایران نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت آبنائے ہرمز سے اپنی بحری ناکہ بندی ہٹا لی۔

جون 2026: کارگو جہاز پر حملہ، کشیدگی دوبارہ عروج پر

جون میں آبنائے ہرمز میں ایک بین الاقوامی کارگو جہاز پر حملے کے بعد حالات دوبارہ بگڑ گئے۔ امریکہ نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے اس کے متعدد فوجی ٹھکانوں پر مسلسل دو روز تک فضائی حملے کیے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔

فیصلہ کن اجلاس پر دنیا کی نظریں

مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر 30 جون کو ہونے والے ہنگامی اجلاس کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس اجلاس پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس سے یہ طے ہو سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ مذاکرات اور امن کی طرف بڑھے گا یا مزید وسیع فوجی تصادم کی جانب۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Amitabh Bachchan birthday: دوستی نبھانے کے لیے سیاست میں آئے امیتابھ بچن، پھر کیوں چھوڑ دی سیاست؟ جانیے پوری کہانی

امیتابھ بچن نے 1984 میں راجیو گاندھی کی حمایت میں الٰہ آباد سے لوک سبھا…

33 minutes ago

Unctad Warning: کیا مغربی ایشیا کی جنگ کی تپش سے جھلسے گی دنیا؟ اقوام متحدہ نے توانائی بحران پر دی بڑی وارننگ

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت کی…

1 hour ago

Manipur Violence: منی پور میں پھر بھڑکا تشدد، 9 افراد کی موت سے کشیدگی میں اضافہ، وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ کی امن کی اپیل

بگڑتے حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے شہریوں سے امن برقرار…

2 hours ago

Congress Controversy: کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہنگامہ، اجے رائے اور ممتا چودھری کے حامیوں میں تصادم، جوتے لے کر کیا احتجاج

لکھنؤ میں کانگریس کے دفتر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب پارٹی لیڈروں اور…

2 hours ago