واشنگٹن: امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے ذریعے تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کو آگے بڑھانے میں پیش رفت ہوگی۔ ان مذاکرات سے لبنان میں حال ہی میں نافذ ہونے والی نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے، تاہم خطے میں دوبارہ بھڑکنے والے تشدد کے باعث ان سفارتی کوششوں کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔
پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں ایرانی مذاکرات کار
نائب صدر وینس نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر طیارے میں سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ایرانی مذاکرات کار پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں اور یہ مذاکرات کئی دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جوہری معاملے پر پیش رفت ہوگی اور لبنان میں جنگ بندی کے مسئلے پر بھی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق یہی دو بڑے موضوعات ہیں جن پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے، جبکہ ایران بھی یقیناً اپنے کچھ معاملات پر بات کرنا چاہے گا۔
لوسرن کے قریب مذاکرات متوقع
سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات لوسرن کے قریب ہونے کی توقع ہے۔ یہ بات چیت سفارتی عمل میں تاخیر کے بعد شروع ہو رہی ہے۔ وینس کے مطابق اعلیٰ سطحی ملاقات سے پہلے ہی مختلف فریقوں کے تکنیکی مذاکرات کار مشاورت میں مصروف تھے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو درست انداز میں آگے بڑھانے کے لیے کئی دن تک گفتگو جاری رہے گی کیونکہ زیر بحث آنے والے موضوعات بہت زیادہ ہیں اور ان تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مستقبل کے مذاکرات کے لیے فریم ورک تیار کرنا مقصد
وینس نے کہا کہ ان کے اہم مقاصد میں مستقبل کی بات چیت کے لیے ایک مضبوط ڈھانچہ قائم کرنا شامل ہے۔ ان کے مطابق بنیادی ترجیح مذاکرات کو درست سمت میں لے جانا اور اس کے لیے ایک مؤثر نظام وضع کرنا ہے، کیونکہ وہ صرف ایک یا دو دن کے لیے وہاں قیام کریں گے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کی کشیدگی سفارتی کوششوں میں رکاوٹ
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی نے حالیہ ہفتوں میں سفارتی کوششوں کی رفتار کو متاثر کیا ہے، جو واشنگٹن کے لیے باعث تشویش ہے کیونکہ امریکہ خطے میں وسیع پیمانے پر استحکام چاہتا ہے۔ وینس نے کہا کہ سرخیوں کے برعکس زمینی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور حالات نسبتاً پرسکون ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو اور سفارتی ٹیم کی کوششوں کی تعریف
نائب صدر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پوری سفارتی ٹیم کو حالات سنبھالنے کا کریڈٹ دیا اور اعتراف کیا کہ جنگ بندی برقرار رکھنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ اسرائیل اور لبنان دونوں محفوظ رہیں، کیونکہ اصل مقصد پورے خطے میں استحکام اور سلامتی کا قیام ہے۔
جنگ بندی برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج
وینس نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک فریق کی فائرنگ کے جواب میں دوسرا فریق کارروائی کرتا ہے، جس سے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر تک رکا رہے اور امریکہ اسی مقصد کے لیے کام کر رہا ہے۔
جوہری پروگرام اور لبنان کی صورتحال مذاکرات
انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت میں امریکہ اور ایران کے سفارتی عمل سے متعلق تکنیکی اور سیاسی معاملات پر توجہ دی جائے گی، جبکہ لبنان میں جنگ بندی کی صورتحال بھی ایک اہم اور متوازی چیلنج کے طور پر زیر بحث رہے گی۔ وینس کے مطابق دونوں موضوعات مذاکرات کے مرکز میں ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی 25 سالہ عوامی خدمت کا ذکر اس…
یونیورسٹی آف ممبئی کے شعبۂ قانون اور چیف جسٹس ایم سی چھاگلا میموریل ٹرسٹ کے…
پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…
مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…
بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…