بین الاقوامی

US Tariff Plan: بھارت کو بڑی راحت، نشانے پر کون؟ ڈونالڈ ٹرمپ کے وزیر نے بتایا خفیہ پلان

واشنگٹن: روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی امریکی دھمکیوں کے درمیان بھارت کے لیے واشنگٹن سے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مجوزہ سخت تجارتی پالیسی کا اصل ہدف بھارت نہیں بلکہ چین ہے۔ ان کے مطابق بھارت نے پہلے ہی امریکی دباؤ کو سمجھتے ہوئے اپنی درآمدی حکمت عملی میں تبدیلی کر لی ہے، جبکہ چین اور کچھ یورپی ممالک اب بھی روس سے تیل خرید کر اس کی جنگی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔

اسکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ بھارت پر پہلے ہی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جا چکا تھا، جس کے بعد نئی دہلی نے روسی تیل کی خرید میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بھارت نے یا تو روسی تیل کی خرید تقریباً روک دی ہے یا پھر اسے انتہائی محدود سطح پر لے آیا ہے۔ بیسنٹ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب بھارت کو اس سخت کارروائی کا مرکزی ہدف نہیں سمجھتا۔ امریکی وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کی سخت تجارتی پالیسی اپنے اثرات دکھا رہی ہے۔ ان کے مطابق چین اس وقت بھی روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور سستا تیل خرید کر یوکرین جنگ کے لیے بالواسطہ طور پر مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ چین پر دباؤ بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

بیسنٹ نے بتایا کہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے سے متعلق ایک بل پیش کیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس اقدام کے لیے سینیٹ کی منظوری ضروری نہیں ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت اپنی صدارتی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی وقت یہ ٹیرف نافذ کر سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے یورپ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ چار سال گزرنے کے باوجود یورپ روسی تیل کی خرید جاری رکھے ہوئے ہے اور بالآخر اپنے ہی خلاف جاری جنگ کو مالی سہارا دے رہا ہے، جو دوغلی پالیسی کی علامت ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے بڑھتے دباؤ کے تناظر میں روس نے سفارتی سطح پر نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھارت اور چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے روس، بھارت اور چین کے درمیان آر آئی سی سہ فریقی مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ لاوروف کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن کا دسمبر 2025 میں بھارت کا دورہ دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کر چکا ہے۔ روس کا مؤقف ہے کہ عالمی نظام کو یک قطبی کے بجائے کثیر قطبی ہونا چاہیے، تاکہ کسی ایک طاقت کی اجارہ داری قائم نہ رہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

1 hour ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

3 hours ago

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

3 hours ago