امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک میں استحکام آنے تک امریکہ عارضی طور پر وینزویلا کے انتظامی امور سنبھالے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیاسی بے چینی کو روکنا، معاشی نظام کو بحال کرنا اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ملک کو ایک محفوظ اور ذمہ دار قیادت کی طرف منتقل کیا جا سکے۔ وینزویلا پر کون حکومت کرے گا، اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس ملک کو ایک مخصوص گروپ کے ذریعے چلائے گا، جس کے لیے امریکی حکام کا انتخاب پہلے ہی شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ انتظام مستقل نہیں بلکہ عارضی ہوگا، جس کا مقصد درست اور پائیدار تبدیلی تک نگرانی کرنا ہے۔
مار اے لاگو میں منعقدہ ایک نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا میں اس وقت تک امریکی نگرانی رہے گی جب تک وہاں محفوظ، درست اور دانشمندانہ سیاسی تبدیلی عمل میں نہیں آ جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے جلد بازی میں پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا تو ماضی کی ناکامیوں کے دوبارہ دہرائے جانے کا خطرہ رہے گا۔ صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر پر خصوصی زور دیا اور کہا کہ یہی شعبہ ملک کی بحالی اور استحکام کا مرکز بن سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا میں تیل کا کاروبار تقریباً ٹھپ ہو چکا ہے، جسے دوبارہ فعال بنانے کے لیے امریکہ کی بڑی تیل کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔ ان کے مطابق تیل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کا خرچ براہ راست تیل کمپنیاں برداشت کریں گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ تیل کے شعبے میں وینزویلا میں موجود رہے گا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ وینزویلا کے عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہوگا، جبکہ کچھ سرمایہ امریکہ کو واپس بھی ملے گا۔ امریکی فوج کی تعیناتی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ زمینی فوج تعینات کرنے سے امریکہ خوفزدہ نہیں ہے اور آپریشن کے دوران امریکی اہلکار پہلے ہی شامل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مادورو حکومت سے وابستہ افراد کو اقتدار میں برقرار رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکہ ان تمام عناصر پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ وینزویلا کی موجودہ نائب صدر کے ساتھ تعاون سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ان سے بات کر چکے ہیں اور وہ امریکہ کے طے کردہ اہداف کے مطابق کام کرنے پر آمادہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو اپنے ’’امریکہ فرسٹ‘‘ نظریے کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے اطراف میں اچھے اور مستحکم پڑوسی چاہتا ہے۔ ان کے مطابق وینزویلا کے توانائی وسائل عالمی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں اور امریکہ بین الاقوامی منڈی میں بڑی مقدار میں تیل فروخت کرے گا۔ انہوں نے طویل المدتی امریکی حکمرانی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی ٹیکس دہندگان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا، کیونکہ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی اس انتظام کو خود کفیل بنائے گی۔ امریکہ طویل عرصے سے وینزویلا کے تیل کے شعبے پر پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے اور مادورو حکومت پر بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات لگاتا رہا ہے، جن کے باعث وینزویلا کی معیشت کمزور ہوئی اور لاکھوں شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…