نئی دہلی : امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی قربت پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں پینٹاگون کے سابق عہدیدار، خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار اور مشرقِ وسطیٰ کے ماہر مائیکل روبن نے پاکستان کے حوالے سے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔عراق، ایران اور ترکیہ کے امور کے ماہر مائیکل روبن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی نظر میں پاکستان کبھی بھی مستقل اور قابلِ اعتماد اتحادی نہیں رہا، بلکہ اسے ہمیشہ ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا گیا جسے صرف اسٹریٹجک ضرورتوں کے تحت استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ پاکستانی قیادت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مائیکل روبن کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا دور اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اور آنے والی حکومت، چاہے وہ ریپبلکن ہو یا ڈیموکریٹ، اس بات پر متفق ہو سکتی ہے کہ پاکستان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول ایسی صورت میں امریکہ خود کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے کیے گئے وعدوں کا پابند محسوس نہیں کرے گا۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے صدارتی دور میں پاکستان پر سخت تنقید کرتے رہے تھے۔ انہوں نے کئی بار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار پر سوال اٹھائے تھے، تاہم ان کے دوسرے دور میں امریکہ کے رویے میں کسی حد تک تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملے بھی رہے ہیں۔ واشنگٹن کو شبہ تھا کہ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں پناہ دی گئی تھی، اگرچہ پاکستان مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا۔ بعد ازاں امریکہ نے 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں خفیہ آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہوگئے۔سیکورٹی خدشات اور اعتماد کی کمی کے باعث کئی برسوں تک کوئی امریکی صدر پاکستان کا دورہ نہیں کر سکا۔ سن 2006 کے بعد سے اب تک کسی بھی امریکی صدر نے پاکستان کا سرکاری دورہ نہیں کیا۔ اسی طرح 2011 کے بعد طویل عرصے تک امریکہ کے اعلیٰ حکام بھی پاکستان آنے سے گریز کرتے رہے۔تاہم حالیہ مہینوں میں خطے کی بدلتی صورتحال، خصوصاً ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اسی سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپریل 2026 میں مذاکراتی عمل کے لیے اسلام آباد پہنچے تھے، جسے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…