بین الاقوامی

US-Iran War: ’چار ممالک پر برسا بارود، کانپ اٹھی دنیا!‘ امریکہ-ایران جنگ نے اختیار کیا بھیانک رخ

ایران نے اردن میں امریکی میرین بیس اور پرنس حسن ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں کی بوچھار کر دی، جبکہ بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی یکے بعد دیگرے ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ ان نئے حملوں کے بعد کویت، بحرین، اردن اور ایران سمیت پورے خطے میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

اردن میں داغے گئے 13 بیلسٹک میزائل

ایران کے اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور (IRGC) نے اردن کے شہر عقبہ کے قریب ٹِٹین میں واقع امریکی میرین کیمپ پر بھاری بیلسٹک میزائل داغ کر ہلچل مچا دی۔ ایرانی میڈیا ادارے تسنیم کے مطابق IRGC نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی مارے گئے اور ان کے جنگی ہیلی کاپٹر تباہ ہو گئے۔

تاہم اردن کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے 13 میں سے 10 میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا، جبکہ 3 میزائل ویران علاقے میں جا کر گرے۔ امریکہ نے بھی ہلاکتوں سے متعلق ایرانی دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

بحرین اور کویت میں بھی گونجے دھماکے

جنگ کی لپٹیں اب اردن سے نکل کر بحرین اور کویت تک پہنچ گئی ہیں۔ بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئربیس اور امریکی بحریہ کے اڈوں کو نشانہ بنا کر ایران نے بڑے پیمانے پر خودکش ڈرون داغے ہیں۔ وہیں کویت کی حکومت نے بھی اپنی سرزمین پر ہونے والے ڈرون حملوں کی تصدیق کی ہے۔

خلیج کے چار ممالک میں بیک وقت ہونے والے ان حملوں سے واضح ہو گیا ہے کہ ایران اب امریکہ کو اس کے اتحادی ممالک کی سرزمین پر نشانہ بنا کر دباؤ میں لانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

چابہار سے بندر عباس تک امریکہ کی شدید بمباری

ایران کے ان حملوں کے جواب میں امریکی فضائیہ نے بھی ایرانی سرزمین پر شدید بمباری کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے عسلویہ، جیروفت، بندر عباس، جزیرہ کیش، کنارک، چابہار، جاسک، سیریک اور لاوان جیسے اہم فوجی اور تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ان تمام میزائل لانچرز اور ڈپو کو تباہ کر رہا ہے جو بین الاقوامی بحری راستوں اور جہازوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔

کیا تیسری عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے؟

ایک ماہ کے وقفے کے بعد بھڑکنے والی یہ آگ اب صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہی، بلکہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک بھی اس کی زد میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی خام تیل کے بحران کے مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان شروع ہونے والا ایک دوسرے کے حملوں کا جواب دینے کا یہ سلسلہ اگر فوری طور پر نہ رکا تو جنگ بہت جلد ایک بڑے عالمی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

36 minutes ago

Student Death DJ Noise: بلرام پور، گنیش وسرجن کے دوران طالبہ کی اچانک موت، ڈی جے کی تیز آواز پر اٹھے سوال

ڈیوائن پبلک اسکول کی طالبہ کی وسرجن تقریب کے دوران اچانک طبیعت بگڑی، بعد میں…

2 hours ago