امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اس پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔ تاہم زمینی صورتحال اب بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ معاہدے کے تحت جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور آئندہ 60 دنوں میں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی سلامتی جیسے حساس معاملات پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
شامن معاہدے پر سب سے بڑا شکوک کیوں پیدا ہوا؟
سب سے بڑا سوال اسرائیل کے کردار کو لے کر ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو لبنان اور خطے میں سکیورٹی معاملات پر سخت مؤقف رکھتے ہیں، جبکہ اسرائیل اس مذاکراتی عمل کا براہِ راست حصہ نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین کو خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں تو معاہدے پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کی پالیسی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں
دوسری جانب ٹرمپ کی پالیسی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے پہلے سخت فوجی مؤقف اختیار کیا، پھر اچانک سفارتی راستہ اپناتے ہوئے معاہدے کی کامیابی کا اعلان کر دیا۔ لیکن ابھی تک معاہدے کی مکمل تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آئیں اور کئی اہم شقیں 19 جون کے بعد ہونے والے مذاکرات پر منحصر ہیں۔
اس ڈیل کے راستے میں بڑی رکاوٹ
فی الحال امریکہ اور ایران دونوں نے فریم ورک معاہدے کی تصدیق کی ہے اور 19 جون کو دستخط کی تاریخ بھی برقرار ہے، لیکن جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور اسرائیل سے متعلق تحفظات جیسے معاملات اس ڈیل کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ معاہدہ مکمل طور پر کامیاب ہو جائے گا، البتہ موجودہ حالات میں دستخط ہونے کے امکانات مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…
بی سی سی آئی نے نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز کے…