انھوں نے مزید کہا “غزہ ملبے، لاشوں اوربین الاقوامی قانون کی ممکنہ سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد سے بھرا ہوا ہے۔” اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے زوردیا کہ فوری اورمستقل جنگ بندی ضروری ہے، قیدیوں کوفوراً رہا کیا جائے اورجوظلم وستم ان پرکیا گیا اسے فوری طورپرختم کیا جائے۔ انہوں نے اسرائیل پرواضح ذمہ داریوں کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خوراک، پانی، دوائیں اوردیگر ضروریات کی فراہمی کویقینی بنایا جائے، زیادہ انسانی رسائی کی سہولت دی جائے اورشہریوں اوربنیادی ڈھانچے کی حفاظت کی جائے۔
بنجامن نیتن یاہو نے فوج کودیا یہ حکم
اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے فوج کوہدایت دی ہے کہ وہ غزہ شہرپرقابوپائے، جہاں اندازاً 10 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ بدھ کواسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ شہرکے باشندگان کومنتقل کرنے کی تیاری جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی امداد کے مراکزقائم کئے جارہے ہیں اورخیمے فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن امدادی تنظیمیں جنوب میں ساحلی علاقے کی تباہ کن صورت حال کے بارے میں بار بار خبردارکرتی رہی ہیں۔ غزہ کی جنگ میں 60 ہزارسے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ یہ اعداد وشمارحماس کے زیرانتظام وزارت صحت کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں جنہیں اقوام متحدہ معتبرمانتی ہے۔ یہ تنازعہ 7 اکتوبر2023 کوحماس کے اسرائیل پراچانک حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔