اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے ایران بھر میں مظاہرین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال سے ’’شدید طور پر خوفزدہ‘‘ ہیں۔ منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے پرامن مظاہرین کے قتل کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ وولکر ترک نے کہا کہ مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے انہیں ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ایرانی حکام پر مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جائز مطالبات کو دبانے کے لیے ’’سفاکانہ طاقت‘‘ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
بیرون ملک ایرانی افراد کے سنگین الزامات
ادھر بیرون ملک مقیم معروف ایرانی کارکن اور صحافی مسیح علی نژاد نے بھی ایران میں جاری احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر مظالم کے الزامات عائد کرتے ہوئے فوری عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چند ہی دنوں میں 12 ہزار سے زائد افراد کو ہلاک کیا گیا اور انٹرنیٹ بند کر کے ان جرائم کو چھپانے کی کوشش کی گئی، جو ان کے بقول ’’جنگی جرم‘‘ کے مترادف ہے۔ مسیح علی نژاد نے کہا کہ ایران پر حکمران عناصر نہتے شہریوں کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کمزور نہیں بلکہ آزاد دنیا کو کارروائی پر مجبور کرنے کے لیے بے چین ہیں۔
احتجاج، ہلاکتیں اور متضاد اعداد و شمار
اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل نے خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ’’دہشت گردوں‘‘ کو قرار دیا ہے۔ یہ اب تک احتجاج کے دوران سامنے آنے والا سب سے بڑا سرکاری ہلاکتوں کا اعتراف بتایا جا رہا ہے۔
انٹرنیٹ بندش اور سرکاری مؤقف
ایران میں جاری احتجاج کے ساتھ ہی مواصلاتی پابندیاں بھی مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ ایران کی اعلیٰ سائبر اسپیس اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک مکمل سکیورٹی بحال نہیں ہو جاتی، عالمی انٹرنیٹ تک رسائی محدود رہے گی۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق انٹرنیٹ بندش 9 جنوری سے نافذ ہے۔ ایران کے نیشنل سینٹر فار سائبر اسپیس نے کہا کہ یہ اقدام ’’ادراکی جنگ‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق قومی انفارمیشن نیٹ ورک (NIN) کو مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ بینکنگ اور آن لائن خریداری جیسی بنیادی سہولیات جاری رہیں۔
عالمی نگرانی اور احتجاج کا پھیلاؤ
انٹرنیٹ نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایران میں قومی سطح پر انٹرنیٹ بندش کو 108 گھنٹے گزر چکے ہیں، جس کے باعث ایرانی عوام دنیا اور ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم HRANA کے مطابق، جاری احتجاج اپنے 16ویں دن میں داخل ہو چکا ہے اور ملک بھر میں 187 شہروں میں 606 مقامات پر مظاہرے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جس سے ایران میں عدم استحکام کی صورتحال مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…
سپریم کورٹ میں راہل گاندھی کی عرضی پر 21 ستمبر کو سماعت، عدالت نے پہلے…