بین الاقوامی

UK MP rejects Trump’s deadline: برطانیہ کا جنگ سے دور رہنے کا اعلان، مگر مفادات کا تحفظ اولین ترجیح، برطانوی وزیر کا ٹرمپ کی وارننگ پر دو ٹوک موقف

لندن: برطانیہ کے وزیر برائے ہاؤسنگ، کمیونٹیز اور لوکل گورنمنٹ اسٹیو ریڈ نے واضح طور پر کہا ہے کہ برطانیہ مغربی ایشیا میں ایران سے متعلق جاری فوجی تنازع میں شامل نہیں ہوگا، تاہم وہ اپنے قومی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور عالمی برادری اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسٹیو ریڈ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ برطانوی حکومت کا اولین مقصد اپنے شہریوں اور خطے میں موجود اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ جنگ میں گھسیٹے جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اگر اس کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ خاموش بھی نہیں بیٹھے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برطانیہ کے پاس اپنے شہریوں اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے مناسب سکیورٹی انتظامات اور وسائل موجود ہیں، اور حکومت اس معاملے میں پوری طرح چوکس ہے۔

ٹرمپ کی 48 گھنٹے کی وارننگ پر محتاط ردعمل

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا نہ رکھا تو امریکہ ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمزعالمی تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ اسٹیوریڈ نے اس معاملے پر محتاط رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اپنے بیانات کے خود ذمہ دار ہیں اور برطانیہ اپنی پالیسی آزادانہ طور پر طے کرتا ہے۔

کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر زور

برطانوی وزیر نے اس موقع پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم بات کشیدگی کو کم کرنا اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ اس تنازع کو جلد از جلد ختم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق، جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی، بلکہ اس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مل کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو امن و استحکام کو فروغ دیں۔

بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی

واضح رہے کہ 28 فروری سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس دوران مختلف فوجی کارروائیاں، میزائل حملے اور توانائی کے مراکز پر حملے دیکھنے میں آئے ہیں، جس سے خلیجی خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اسی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے اور کئی ممالک کو توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کو تیل اسی راستے سے فراہم کیا جاتا ہے۔

عالمی ردعمل اور مستقبل کی صورتحال

برطانیہ کے اس محتاط موقف کو عالمی سطح پر ایک متوازن ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف وہ جنگ سے دور رہنے کی بات کر رہا ہے، وہیں دوسری جانب اپنے مفادات کے تحفظ پر بھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس تنازع کی نوعیت مزید واضح ہوگی اور یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں یا خطہ مزید کشیدگی کی طرف بڑھتا ہے۔ برطانیہ سمیت کئی ممالک اس وقت یہی کوشش کر رہے ہیں کہ حالات قابو میں رہیں اور کسی بڑے عالمی بحران سے بچا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago