نئی دہلی :امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امن معاہدے پر اتوار کو دستخط کیے جا سکتے ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران نے اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں اور فوری طور پر کسی معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان نہیں ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مجوزہ معاہدے پر اتوار کو دستخط ہوں گے اور اس کے فوراً بعد آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے سے روکے گا اور خطے میں استحکام کی نئی راہ ہموار کرے گا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ایرانی وزارت خارجہ نے محتاط مؤقف اختیار کیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہو رہی ہے، لیکن بعض اختلافات اب بھی موجود ہیں، اس لیے فوری طور پر حتمی معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ البتہ آنے والے دنوں میں مثبت پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔دوسری جانب پاکستان، جو اس پورے عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، کافی پرامید نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کا مسودہ تقریباً تیار ہو چکا ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر الیکٹرانک دستخط کے ذریعے اسے حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی گزشتہ روز اس امید کا اظہار کیا تھا کہ معاہدہ “آنے والے چند دنوں” میں طے پا سکتا ہے۔ اسی طرح امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، اگرچہ بعض حساس نکات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔اس ممکنہ معاہدے کا سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا ہے، جو دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران جاری کشیدگی اور جنگ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے امن کو متاثر کیا بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا۔اگرچہ ٹرمپ ماضی میں بھی کئی بار معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں، لیکن اس بار پاکستان، امریکہ اور ایران تینوں جانب سے محتاط امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےک تہران کے حالیہ بیان کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ اتوار کو دستخط ہونا یقینی نہیں، اور حتمی معاہدے کے لیے مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
امریکا نے جمعرات کو ایک بڑا اور چونکا دینے والا فیصلہ کرتے ہوئے انفوسس، ٹی…
ماں بننے کے بعد کترینہ کیف کے وزن کو لے کر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ،…
نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…
میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…
مہاراشٹر کے ممبئی میں جمعرات کو ایک لیبر کیمپ میں بھیانک آگ لگنے کے بعد…