امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات (بھارتی وقت) کو اعلان کیا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت دونوں ملک مشترکہ طور پر ’تیل کے بڑے ذخائر‘ تیار کریں گے۔ ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ مستقبل میں یہ تیل ہندوستان کو برآمد کیا جا سکتا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے ایک دن پہلے ہی ہندوستانی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی روس کے ساتھ ہندوستان کی تیل اور ہتھیاروں کی تجارت کے حوالے سے مزید سخت قدم اٹھانے کی وارننگ دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ‘ پر ٹرمپ نے کیا لکھا؟
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ‘ پر ٹرمپ نے لکھا، ’’ہم نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکہ اپنے تیل کے بڑے ذخائر کو ترقی دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ ہم تیل کمپنی کے انتخاب کے عمل میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔ کون جانتا ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ کسی دن بھارت کو تیل بیچے!‘‘
ٹرمپ نے ہندوستانی برآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ خام تیل اور دفاعی ساز و سامان کے لیے روس کے ساتھ ہندوستان کی مسلسل شراکت داری کے جواب میں اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ٹیرف میں کمی کے لیے کئی ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم وائٹ ہاؤس میں تجارتی معاہدوں پر کام کرنے میں بہت مصروف ہیں۔ میں نے کئی ممالک کے رہنماؤں سے بات کی ہے، جو سبھی امریکہ کو ’بہت خوش‘ کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’معاہدوں سے امریکہ کا تجارتی خسارہ ہوگا کم‘‘
ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے تجارتی وفد کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیول میں اس وقت 25 فیصد ٹیرف کی شرح لاگو ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ان کے پاس ان ٹیرف کو کم کرنے کی تجویز ہے۔ مجھے یہ جاننے میں دلچسپی ہوگی کہ وہ تجویز کیا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے کہا کہ ایسے معاہدوں سے امریکہ کا تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ انہوں نے ’صحیح وقت پر‘ مکمل رپورٹ دینے کا وعدہ کیا۔
’’امریکی مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے برکس‘‘
ہندوستانی ٹیرف اور وسیع تر کشیدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں، ٹرمپ نے ایک بار پھر برکس میں ہندوستان کے کردار کو لے کر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ برازیل، روس، ہندوستان، چین، جنوبی افریقہ اور حال ہی میں شامل ہوئے دیگر ممالک پر مشتمل یہ گروپ امریکی مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’دیکھئے، ہم ابھی بات چیت کر رہے ہیں، اس میں برکس بھی شامل ہے۔ BRICS بنیادی طور پر ان ممالک کا ایک گروپ ہے جو امریکہ کے خلاف ہےاور بھارت اس کا رکن ہے۔ یقین کیجئے، یہ ڈالر پر حملہ ہے۔ ہم کسی کو بھی ڈالر پر حملہ نہیں کرنے دیں گے۔ اس لیے یہ جزوی طور پر BRICS کی وجہ سے ہے۔ یہ جزوی طور پر تجارت کی وجہ سے ہے۔‘‘
امریکی صدر نے یہ بھی اشارہ کیا کہ بھارت کے ساتھ جاری مذاکرات رواں ہفتے کے آخر تک کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…