اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے پیر کے روز بتایا ہے کہ امدادی سامان سے لدے ہوئے ٹرک غزہ کی پٹی میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی صدر آئزک ہرتزوگ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کے رہائشیوں میں امداد کی براہِ راست تقسیم کے لیے پیش کی گئی اسرائیلی منصوبہ بندی کی حمایت کرے۔ برلن میں ایک تقریب کے دوران ہرتزوگ نے کہا کہ اسرائیل ایک نیا نظام تجویز کر رہا ہے جس کے تحت امداد کو براہِ راست غزہ کے عوام میں تقسیم کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ حماس کو اس پر کنٹرول حاصل نہ ہو۔ ان کے ساتھ موجود جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے فوری طور پر غزہ میں امداد کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی، جس پر ہرتزوگ نے کہا کہ ہم عالمی برادری، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس منصوبے پر سنجیدگی سے غور کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں۔
اسرائیل صرف ایک محفوظ راستہ فراہم کرنے کا پابند
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کے روز واضح کر چکے ہیں کہ اسرائیل صرف ایک “محفوظ راستہ” فراہم کرنے کا پابند ہے تاکہ غزہ میں قید اسرائیلی نژاد امریکی فوجی عیدان الیگزینڈر کو رہا کروایا جا سکے، اس کے سوا کسی چیز کی وہ ضمانت نہیں دیتا۔ حماس نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ وہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ حالیہ دنوں میں ہونے والے رابطوں کے نتیجے میں الیگزینڈر کو رہا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ رابطے جنگ بندی کی کوششوں اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے سلسلے میں ہو رہے تھے۔
جنگ بندی اور امداد کی ترسیل سے متعلق بات چیت
گزشتہ روز حماس نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ جنگ بندی اور امداد کی ترسیل سے متعلق بات چیت میں مصروف ہے۔ دریں اثنا، اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ ایک نئی تنظیم قائم کی جا رہی ہے جو غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ غزہ میں اس وقت شدید تباہ کن جنگ جاری ہے اور دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری اسرائیلی محاصرے کے باعث خوراک، صاف پانی، ایندھن اور ادویات جیسی بنیادی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
18 مارچ کو اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کیے
اس امریکی اقدام کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ یہ بظاہر اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کے کردار کو پسِ پشت ڈال کر موجودہ انسانی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لانے کا سبب بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دو مارچ سے اسرائیل نے کسی بھی قسم کی انسانی امداد کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ بالخصوص اس وقت جب حماس کے ساتھ بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی اور 18 مارچ کو اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کر دیے، یوں 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران دو ماہ کی جنگ بندی کا اختتام ہوا۔
اس جنگ بندی کے دوران غزہ میں امداد میں اضافہ ہوا تھا اور اس کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا، جب کہ اسرائیل میں قید فلسطینیوں کو بھی آزادی ملی۔ تاہم قحط کے خدشات کے باوجود اسرائیل کسی انسانی بحران کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا اور الزام لگاتا ہے کہ حماس امداد کو لوٹ رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…