پی ایم مودی
وزیر اعظم مودی نے آج ملک کی عوام سے خطاب کرتے ہوئے پہلگام دہشت گردانہ حملے اور آپریشن سندور کے حوالے سے بات کی۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گرانہ حملے کے بعد سے وزیر اعظم کا ملک کی عوام سے یہ پہلا خطاب تھا۔ اس خطاب کے دوران انھوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے، آپریشن سندور، پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور پھر جنگ بندی کے حوالے سے بات کی۔ ذیل میں ان کا پورا خطاب متنوع موضوعات کے ساتھ پیش ہے۔
ہندوستان کی افواج، خفیہ ایجنسیوں اور سائنس دانوں کو کیا سلام
وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز فوج کو سلام پیش کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا ’’میں سب سے پہلے ہندوستانی کی فوج، خفیہ ایجنسیوں اور ہمارے سائنس دانوں کو ہر ہندوستانی کی جانب سے سیلیوٹ کرتا ہوں۔ ہمارے بہادر سپاہیوں نے آپریشن سندور کے مقاصد کے حصول میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ میں ان کی بہادری، ان کی ہمت اور ان کی کامیابیوں کو ملک کی ہر ماں، ہر بہن اور ہر بیٹی کے نام وقف کرتا ہوں۔‘‘
پہلگام حملے پر کیا گہرے دکھ کا اظہار
وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب کے دوران پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’’22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردوں نے جس بربریت کا مظاہرہ کیا تھا، اس نے ملک اور دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ چھٹیاں منا رہے معصوم شہریوں کو مذہب پوچھ کر ان کے خاندان اور بچوں کے سامنے بے رحمی سے مار ڈالنا، دہشت گردی کا نہایت ہی خوف ناک چہر تھا۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’میرے لیے ذاتی طور پر یہ تکلیف بہت ہی بڑی تھی۔ اس دہشت گردانہ حملے کے بعد پورا ملک، ہر شہری، ہر سماج، ہر طبقہ اور ہر سیاسی پارٹی ایک ساتھ دہشت گردی کے خلاف کڑی کارروائی کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ہم نے دہشت گردوں کو مٹی میں ملانے کے لیے ہندوستانی کی فوج کو کھلی چھوٹ دے دی۔ اور آج ہر دہشت گرد اور ہر دہشت گرد تنظیم یہ جان چکی ہے کہ ہماری بہنوں اور بیٹوں کے ماتھے کا سندور ہٹانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ‘‘
آپریشن سندور صرف ایک نام نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کے جذبات کا استعارہ ہے: وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم نے آپریشن سندور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ’’آپریشن سندور صرف نام نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کے لوگوں کے جذبات کا استعارہ ہے۔ آپریشن سندور انصاف کا عہد ہے۔ 6 مئی کی دیر رات اور 7 مئی کی صبح پوری دنیا نے اس عہد کو نتیجے میں بدلتے دیکھا ہے۔ ہندوستان کی افواج نے پاکستان میں دہشت گردی کے اڈوں پر اور ان کے ٹریننگ سینٹرز پر سٹیک حملہ کیا۔ دہشت گردوں نے سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ہندوستان اتنا بڑا فیصلہ لے سکتا ہے۔ لیکن جب ملک متحد ہوتا ہے اور ’نیشن فرسٹ‘ کے جذبوں سے شرابور ہوتا ہے تو فولادی فیصلے لیے جاتے ہیں اور نتائج لا کر دکھائے جاتے ہیں۔‘‘
دہشت گردی کی یونیورسٹی رہا ہے پاکستان: پی ایم مودی
دہشت گردوں کے خلاف ہندوستان کی فیصلہ کن کارروائی پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا ’’جب پاکستان میں دہشت گردی کے اڈوں پر ہندوستان کی میزائلوں اور ڈرونز نے حملہ بولا تو دہشت گرد تنظیموں کی عمارتیں ہی نہیں بلکہ ان کا حوصلہ بھی تھرّا گیا۔ بہاولپور اور مریدکے جیسے دہشت گردی ٹھکانے ایک طرح سے عالمی دہشت گردی کی یونیورسٹی رہے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی جو بڑے دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں، چاہے 9/11 ہو، چاہے لندن ٹیوب بمباری ہو یا ہندوستان میں گزشتہ دہائیوں کے درمیان جو بڑے بڑے دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں، ان سب کے تار کہیں نہ کہیں دہشت گردی کے انھی ٹھکانوں سے جڑے رہے ہیں۔‘‘
دہشت گردوں نے ہماری بہنوں کا سندور اجاڑا تھا، ہم نے ان کے ہیڈکوارٹر اجاڑ دیے: پی ایم مودی
وزیر اعظم نے دہشت گردوں کو سبق سکھانے کے حوالے سے آپریشن سندور کی کامیابی اور پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے پر بھی بات کی۔ انھوں نے کہا ’’دہشت گردوں نے ہماری بہنوں کا سندور اجاڑا تھا۔ اس لیے ہندوستان نے دہشت گردی کے یہ ہیڈکوارٹرز اجاڑ دیے۔ ہندوستان کے ان حملوں میں سو سے زیادہ خوں خوار دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ دہشت گردی کے بہت سے آقا گزشتہ دو تین دہائیوں سے پاکستان میں کھلے عام گھوم رہے تھے۔ وہ ہنوستان کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ انھیں ہندوستان نے ایک جھٹکے میں ختم کر دیا۔‘‘
ہندوستانی کی جارحانہ کارروائی سے خوف زدہ ہو کر پاکستان جنگ بندی کے لیے گڑگڑایا: پی ایم مودی
تقریباً چار دن کی کشیدگی کے بعد اچانک دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے حوالے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے اس کے اسباب پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا ’’ہندوستانی کی اس کارروئی سے پاکستان سخت مایوسی اور گھبراہٹ کا شکار ہو گیا۔ وہ بوکھلا گیا۔ اور اسی بوکھلاہٹ میں اس نے ایک اور غلطی کی۔ دہشت گردی پر ہندوستانی کا کارروائی کا ساتھ دینے کے بجائے پاکستان نے ہندوستان پر ہی حملہ کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان نے ہمارے اسکولوں، کالجوں، گرودواروں، مندروں اور عام شہریوں کےگھروں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے ہمارے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن اس میں بھی پاکستان خود بے نقاب ہو گیا۔ دنیا نے دیکھا کہ کیسے پاکستان کے ڈرونز پاکستان کی میزائلیں ہندوستان کے سامنے تنکے کی طرح بکھر گئیں۔ ہندوستان کے بہترین ایئر ڈیفنس سسٹم نے انھیں آسمان میں بھی تباہ کر دیا۔ پاکستان کی تیاری ’’سیما‘‘ پر وار کی تھی، لیکن ہندوستان نے پاکستان کے ’’سینے‘‘ پر وار کر دیا۔ ہندوستان کے ڈرونز اور میزائلوں نے سٹیک حملے کیے اور پاکستانی فوج کے ان ایئر بیسز کو نقصان پہنچایا جن پر پاکستان کو نہایت گھمنڈ تھا۔ ہندوستان نے پہلے تین دنوں میں ہی پاکستان کو اتنا تباہ کر دیا، جس کا اسے اندازہ بھی نہیں تھا۔‘‘
وزیر اعظم نے مزید کہا ’’ہندوستان کی جارحانہ کارروائی کے بعد پاکستان بچنے کے راستے تلاشنے لگا۔ پاکستان دنیا بھر میں تناؤ کم کرنے کے لیے گہار لگا رہا تھا۔ اور بری طرح پٹنے کے بعد اسی مجبوری میں دس مئی کی دوپہر کو پاکستانی فوج نے ہمارے ڈی جی ایم او سے رابطہ کیا۔ تب تک ہم دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر تباہ کر چکے تھے۔ دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ پاکستان کے سینے میں بسائے گئے دہشت گردی کے اڈوں کو ہم نے کھنڈر بنا دیا تھا۔ اس لیے جب پاکستان کی طرف سے یہ کہا گیا کہ اس کی جانب سے آگے کوئی بھی دہشت گردانہ کارروائی یا فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی، تو ہندوستان نے بھی اس پر غور کیا۔‘‘
ہندوستان نے ابھی آپریشن سندور بند نہیں کیا، وزیر اعظم مودی نے کیا پاکستان کو خبردار
وزیر اعظم مودی نے پاکستان کو آئندہ کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ کارروائی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ’’میں پھر دہرا رہا ہوں کہ ہم نے پاکستان کے دہشت گردی اور فوجی ٹھکانوں پر اپنی جوابی کارروائی کو ابھی صرف ملتوی کیا۔ آنے والے دنوں میں ہم پاکستان کے ہر قدم کر اس کسوٹی پر ماپیں گے کہ وہ کیا رویہ اپناتا ہے۔ ہندوستان کی تینوں افواج، ایئرفورس، آرمی، نیوی اور بی ایس ایف اور ہندوستان کے نیم فوجی دستے لگاتار الرٹ پر ہیں۔ سرجیکل اسٹرائیک اور ایئر اسٹرائیک کے بعد اب آپریشن سندور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی پالیسی ہے۔ آپریشن سندور نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ایک نئی لکیر کھینچ دی ہے۔ ایک نیا پیمانہ، نیو نارمل طے کر دیا ہے۔‘‘
دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی نئی پالیسیوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ’’پہلا: ہندوستان پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ہم اپنے طریقے سے، اپنی شرطوں پر جواب دے کر رہیں گے۔ ہر اس جگہ جا کر سخت کارروائی کریں گے جہاں سے دہشت گردی کی جڑیں نکلتی ہیں۔ دوسرا: کوئی بھی نیوکلیئر بلیک میل ہندوستان نہیں سہے گا۔ نیو کلیئر بلیک میل کی آڑ میں پنپ رہے دہشت گردی کے ٹھکانوں پر ہندوستان سٹیک اور فیصلہ کن حملے کرے گا۔ تیسرا: ہم دہشت گردوں کی سرپرست سرکار اور دہشت گردوں کے آقاؤں کو الگ الگ نہیں دیکھیں گے۔‘‘
دہشت گردوں کو الوداع کہنے جمع ہوئے پاکستانی افسر، دنیا نے دیکھ لیا پاکستان کا گھناؤنا چہرہ: پی ایم مودی
وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران پاکستانی فوجیوں کے دہشت گردوں کی نماز جنازہ میں شرکت پر بھی سوال اٹھائے اور کہا یہ اسٹیٹ اسپانسرڈ دہشت گردی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا ’’آپریشن سندور کے دوران دنیا نے پاکستان کا وہ گھناؤنا سچ دیکھا ہے، جب مارے گئے دہشت گردوں کو الوداع کہنے پاکستانی فوج کے بڑے بڑے افسر امڈ پڑے۔ اسٹیٹ اسپانسرڈ دہشت گردی کا یہ بہت بڑا ثبوت ہے۔ ہم ہندوستان اور اپنی عوام کو کسی بھی خطرے سے بچانے کے لیے لگاتار فیصلہ کن اقدامات کرتے رہیں گے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا ’’پاکستانی فوج اور پاکستانی حکومت جس طرح دہشت گردی کو کھاد پانی دے رہی ہے، وہ ایک دن پاکستان کو ہی ختم کر دے گا۔ پاکستان کو اگر بچنا ہے تو اسے اپنے دہشت گردی انفراسٹرکچر کا صفایا کرنا ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ امن کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ بھارت کاموقف بالکل واضح ہے: دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں ہو سکتی، دہشت گردی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتی، اور پانی اور خون بھی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا۔‘‘
عالمی برادری کو بھی کیا مخاطب
وزیر اعظم نے اس موقع پر عالمی برادری کو بھی مخاطب کرتے ہوئے ہندوستان کا موقف واضح کیا اور کہا ’’میں آج عالمی برادری سے بھی کہوں گا کہ ہماری کوشش بات چیت رہی ہے۔ اگر پاکستان سے بات ہوگی تو دہشت گردی پر ہی ہوگی۔ اگر کستان سے بات ہوگی تو پاک مقبوضہ کشمیر پر ہی ہوگی۔ جنگ کے میدان میں ہم نے ہر بار پاکستان کو دھول چٹائی ہے اور اس بار آپریشن سندور نے اس میں نیا باب جوڑ دیا ہے۔ ہم نے ریگستانوں اور پہاڑوں میں اپنی شاندار قابلیت کا مظاہرہ کیا اور ساتھ ہی نئے جنگی منظرنامے میں بھی اپنی برتری ثابت کی ہے۔ اس آپریشن کے دوران ہمارے ہمارے میڈ ان انڈیا ہتھیاروں کی صلاحیت بھی ثابت ہوئی۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ اکیسویں صدی کے جنگی منظرنامے میں میڈ ان انڈیا ڈیفنس آلات کا وقت آ چکا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر زور دیتے ہوئے کہا ’’ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہم سبھی کا متحد رہنا ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ یقینی طور پر یہ عہد جنگ کا نہیں ہے، لیکن یہ عہد دہشت گردی کا بھی نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری، ایک بہتر دنیا کی گارنٹی ہے۔‘‘
بدھ پورنیما کے حوالے سے ملک کی عوام کو دیا ایک نہایت خاص پیغام
بدھ پورنیما کے موقع پر گوتم بدھ کے حوالے سے وزیر اعظم مودی نے ملک کی عوام کو ایک نہایت خاص پیغام دیتے ہوئے کہا ’’آج بدھ پورنیما ہے۔ بھگوان بدھ نے ہمیں امن کا راستہ دکھایا ہے۔ امن کا راستہ بھی طاقت سے ہو کر ہی جاتا ہے۔ انسانیت امن اور آشتی کی طرف بڑھے، ہر ہندوستانی امن سے جی سکے، وکست بھارت کے سپنے کو پورا کر سکے، اس کے لیے ہندوستان کا طاقت ور ہونا بہت ضروری ہے اور ضرورت پڑنے پر اس طاقت کا استعمال بھی ضروری ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں ہندوستان نے یہی کیا ہے۔ میں تمام ہندوستانیوں کے حوصلے اور ان کے اتحاد کو سلام کرتا ہوں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…