وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی کے بعد عالمی سیاست میں واضح دراڑ نظر آ رہی ہے اور دنیا دو بڑے خیموں میں بٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے ممالک بھی ہیں جو کھل کر امریکہ کے موقف اور کارروائی کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سفارتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکہ کی کارروائی پر تنقید کرنے والے ممالک کی فہرست خاصی طویل ہے۔ روس، چین، ایران، کیوبا، برازیل، میکسیکو، کولمبیا، چلی، بیلاروس، یوراگوئے، سلوواکیہ، جنوبی افریقہ، ملائیشیا، سری لنکا، شمالی کوریا، گھانا اور سنگاپور سمیت کئی ممالک نے امریکی اقدام کو خود مختار ریاست کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریاست کے اندرونی معاملات میں فوجی مداخلت اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی روح کے منافی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اس قدم پر تنقیدی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور بعض سیاسی و سماجی حلقے اسے خطرناک نظیر قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی کارروائی کی کھل کر حمایت کی ہے۔ ارجنٹینا، اسرائیل، پیرو، ایل سلواڈور، ایکواڈور، البانیہ، فرانس اور برطانیہ نے اس اقدام کو وینزویلا میں سیاسی تبدیلی کی سمت ایک ضروری قدم قرار دیا ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ صدر نکولس مادورو کی حکومت جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی تھی، اس لیے عالمی برادری کو مداخلت کا حق حاصل ہے۔ بھارت نے اس معاملے میں متوازن اور محتاط موقف اختیار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا میں پیش آنے والے حالیہ واقعات باعثِ تشویش ہیں اور بھارت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں دونوں فریقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں۔ وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت وینزویلا کے عوام کی فلاح اور سلامتی کے لیے پُرعزم ہے اور کاراکاس میں بھارتی سفارت خانہ وہاں موجود بھارتی برادری کے ساتھ رابطے میں ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ ان کی حکومت وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر ابتدا ہی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی نے اپنے اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر صدر مادورو کی جانب سے دعویٰ کی گئی انتخابی جیت کو تسلیم نہیں کیا اور حکومت کے جابرانہ اقدامات کی مذمت کی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی آمرانہ نظام کے خاتمے کے لیے بیرونی فوجی کارروائی کو اٹلی درست راستہ نہیں سمجھتا، البتہ بعض مخصوص حالات میں سلامتی کے دفاع کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ میلونی نے وینزویلا میں مقیم اطالوی شہریوں کی سلامتی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے بھی دونوں فریقوں سے تحمل اور مکالمے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت وینزویلا کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے سفارت کاری کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھتی ہے۔ انہوں نے جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا بین الاقوامی قانون کے تحت وینزویلا میں پرامن اور جمہوری تبدیلی کی حمایت جاری رکھے گا، جو وہاں کے عوام کی خواہشات کی حقیقی عکاسی کرے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…