سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے آج منگل کو خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک اور آسیان تنظیم کے درمیان دوسرے سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ اس اجلاس کی میزبانی ملیشیا کا دارالحکومت کوالالمپور کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں ان مضبوط بنیادوں کا ذکر کیا جو پہلے سربراہی اجلاس میں 2023 میں ریاض میں سعودی عرب کی میزبانی میں رکھی گئی تھیں۔ انہوں نے دونوں گروپوں کے ممالک کے درمیان ایک پرجوش شراکت داری کا حوالہ دیا۔
عوام کے مفادات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے شراکت داری کو فروغ دینے کی کوشش
شہزادہ فیصل بن فرحان نے مشترکہ عزم کو مضبوط کرنے، اقتصادی شراکت داری کی ترجیحات کو مزید تلاش کرنے، علاقائی منڈیوں کے انضمام اور پائیداری کو گہرا کرنے، ڈیجیٹل تبدیلی کی اہمیت کو سمجھنے، سرکاری اور نجی شعبوں کی شراکت اور عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے ملائیشیا میں منعقد ہونے والے دوسرے سربراہی اجلاس کی بھی تعریف کی جو ماضی میں حاصل کی گئی کامیابیوں پر مزید کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس دونوں گروپوں کے عوام کے مفادات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے شراکت داری کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے اور پائیدار ترقی اور علاقائی استحکام حاصل کر رہا ہے۔
زراعت اور حلال خوراک کی صنعت، سبز اور قابل تجدید توانائی کے شعبے اہمیت کے حامل
شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ہمارے ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات متعدد اہم شعبوں میں امید افزا مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان میں مالیاتی شعبہ، زراعت اور حلال خوراک کی صنعت، سبز اور قابل تجدید توانائی کے شعبے شامل ہیں۔ دونوں گروپوں کے ممالک نے تجارتی تبادلے کی سطح میں نمایاں پیشرفت حاصل کی ہے جہاں 2023 سے 2024 تک 21 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 میں تجارت کا حجم تقریباً 123 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو ہماری شراکت داری کی بڑی صلاحیتوں کی عکاسی کر رہا ہے ۔ یہ ہمارے ممالک کے درمیان تجارت کو آسان بنانے اور اس کی راہ میں حائل کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے کوششوں کو تیز کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور خوراک و پانی کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ضرورت
سعودی وزیر خارجہ نے اس سلسلے میں سعودی وزارت سرمایہ کاری کی جانب سے 28 مئی 2024 کو ریاض میں منعقد ہونے والی اقتصادی اور سرمایہ کاری کانفرنس کا حوالہ دیا۔ اس کانفرنس نے سرمایہ کاری کے مواقع کے تبادلے اور دونوں خطوں کے نجی شعبوں کے درمیان رابطے کے پل بنانے کے لیے ایک غیر معمولی پلیٹ فارم فراہم کیا اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے نجی شعبے کی شرکت میں اضافے کی توقع ظاہر کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دوسرا سربراہی اجلاس متعدد عالمی چیلنجوں کے درمیان منعقد ہو رہا ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور خوراک و پانی کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں ریاض میں پہلے سربراہی اجلاس میں ان چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے مشترکہ عزم پر اتفاق کیا گیا تھا۔
دو ریاستی حل کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو فروغ دینے کا عندیہ
شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک بار پھر سعودی عرب کے اس عزم کی تصدیق کی کہ ایک منصفانہ اور جامع حل دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے مطابق القدس کے دار الحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام امن کو فروغ دے گا۔ انہوں نے غزہ میں انسانی امداد کی حمایت کرنے اور سیاسی اور انسانی تناؤ کو جامع طریقے سے حل کرکے علاقائی استحکام کو بڑھانے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ شہزادہ فیصل نے خلیجی اور آسیان ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھانے والی اقدامات کے لیے سعودی عرب کی حمایت پر زور دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مجرُوح نے نئی نسل کے لیے بھی کئی مقبول گیت لکھے۔ قیامت سے قیامت تک…
نیرو ڈھانڈا اور کینن چنائی نے ٹریپ مکسڈ ٹیم ایونٹ میں ہندوستان کو پہلی بار…
لکھنؤ ٹیچر انتخابی حلقے میں سشیل کمار پٹیل اور بی جے پی کے امیش دویدی…
کرانتی نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹ حاصل کرکے لارڈز میں ٹیسٹ کرکٹ…
گزشتہ ہفتے پیرس سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب فرانس کے کئی علاقوں تک…
رپورٹ کے مطابق انڈیا الائنس سے دو جماعتیں الگ ہو چکی ہیں۔ پہلے اس اتحاد…