تصویر بشکریہ حاتم خالد/روئٹرز۔
اسرائیلی فوج نے غزہ پر جان لیوا حملوں کے بعد غزہ کے متعدد علاقوں کے رہائشیوں کو ’’فوری طور پر علاقہ خالی کرنے‘‘ کی دھمکی ہے۔ اسرائیل کے تازہ حملوں نے صرف کچھ ہی گھنٹوں کے اندر کم از کم 404 فلسطینیوں کی جان لے لی ہے اور 562 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسی درمیان اسرائیلی فوج نے منگل کو جبری انخلاء کے احکامات جاری کیے۔ یہ احکامات بیت حنون، خیربیت خزاعہ، اباسن الکبیرہ اور اباسان الجدیدہ کے محلوں میں جاری کیے گئے ہیں۔
الجزیرہ کی خبر کے مطابق اسرائی فوج کے ترجمان نے کہا ’’آئی ڈی ایف [اسرائیلی فوج] نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔ احکامات میں نامزد علاقوں کو خطرناک جنگی علاقے تصور کیا جاتا ہے۔‘‘ اسرائیلی ترجمان نے مزید کہا کہ مذکورہ علاقوں کے رہائشیوں کو مغربی غزہ سٹی یا خان یونس کی پناہ گاہوں کا رخ کرنا چاہیے۔
اسرائیلی حملے کے بعد حماس نے کہا کہ نتن یاہو حکومت نے دونوں فریقوں کے درمیان 19 جنوری سے نافذ العمل دو ماہ کی جنگ بندی کو ’’ختم‘‘ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ غزہ پر حملوں اور انخلاء کے احکامات نے مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے دوران جنگ بندی کے تحت اپنے گھروں کو لوٹنے والے فلسطینوں کو حاصل نسبتاً پرسکون دور کو ختم کر دیا۔
تازہ صورت حال
غزہ میں موجود الجزیرہ کے رپورٹر ہانی محمود نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں رہائشی عمارتوں، اسکولوں اور عوامی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جو اب موت کے جال میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بہت سے فلسطینی اب بھی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں کیوں کہ ان کے گھر یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا ایسے علاقے میں واقع ہیں جہاں اسرائیلی فوج اب بھی قابض ہے۔‘‘ دریں اثنا مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے رابطہ کار نے غزہ میں جنگ بندی کو فوری طور پر بحال کرنے پر زور دیا۔ مہند ہادی نے ایک بیان میں کہا کہ ”صبح کی اولین ساعتوں سے غزہ کی پٹی میں فضائی حملوں کی لہریں جاری ہیں۔ یہ ناقابلِ برداشت ہے۔ جنگ بندی فوری طور پر نافذ کی جانی چاہیے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
دیوالی اور چھٹھ کے پیشِ نظر دہلی کے 6 اہم ریلوے اسٹیشنوں پر 14 نومبر…
ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی کوشش کیوں ناکام ہوئی؟…
دہلی کی 100 سال پرانی قدیمی مسجد ہٹانے کے مرکز کے حلف نامہ پر تنازعہ…
عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، 2011 سے 2023 کے درمیان بھارت…
مقامی لوگوں کو مبینہ طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ جن مکانات یا زمینوں…
مرکزی کابینہ نے اگنی ویروں کے حوالے سے بڑا اعلان کیا ہے۔ اب 75 فیصد…