بہار میں آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر جاری سیاسی ہلچل کے درمیان انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے راشٹریہ جنتا دل لیڈر اور بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو، ان کی اہلیہ رابڑی دیوی اور بیٹے تیج پرتاپ یادو کو مبینہ طور پر ’نوکریوں کے بدلے زمین‘ کے گھوٹالے سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔رابڑی دیوی اور تیج پرتاپ یادو کو منگل کی صبح 11 بجے تحقیقات میں شامل ہونے کو کہا گیا ہے۔وہیں لالو پرساد یادو کو بدھ کی صبح پٹنہ میں طلب کیا گیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ایک ای ڈی اہلکار نے بتایا کہ ’’ہمیں اس کیس سے متعلق کچھ نئے حقائق ملے ہیں، لہٰذا ہم تمام حقائق کی تصدیق کے لیے انھیں طلب کر رہے ہیں۔‘‘
پہلے بھی ہوئی ہےکارروائی
اس سے قبل بدعنوانی سے متعلق ایک کیس میں سی بی آئی کی چارج شیٹ کا نوٹس لیتے ہوئے لالو یادو، رابڑی دیوی، تیج پرتاپ یادو، تیجسوی یادو، ہیما یادو اور میسا بھارتی کو 11 مارچ کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں 30 سرکاری افسران سمیت 78 ملزمین کو نامزد کیا ہے۔ مقدمہ ان الزامات پر مرکوز ہے کہ 2004 اور 2009 کے درمیان، جب لالو یادو مرکزی وزیر ریلوے تھے، ہندوستانی ریلوے میں گروپ-D کے عہدوں پر تقرریوں کے بدلے کم قیمتوں پر زمین غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی۔
کیا ہیں الزامات؟
ایجنسی کا الزام ہے کہ زمینیں یادو کے خاندان کے افراد بشمول رابڑی دیوی اور بیٹیاں میسا بھارتی اور ہیما یادو کو مارکیٹ ویلیو سے کافی کم قیمتوں پر منتقل کی گئیں۔ پچھلے سال ای ڈی نے 4,700 صفحات سے زیادہ کی چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں رابڑی دیوی، میسا بھارتی، ہیما یادو، کمپنیوں اے کے انفو سسٹم اور اے بی ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، ریلوے کے سابق ملازم ہردیانند چودھری اور اے کے انفو سسٹم کے ڈائریکٹر امیت کٹیال کو بطور ملزم نامزد کیا گیا تھا۔
ایجنسی نے الزام لگایا کہ کٹیال نے سابق وزیر ریل کے ساتھ مل کر دہلی میں ایک کمپنی کے ساتھ سازش کی تا کہ ملازمت کے متلاشیوں سے بہار میں زمین حاصل کی جا سکے۔ اے کے انفو سسٹم کے حصص 2014 میں لالو پرساد یادو کے خاندان کے افراد کو صرف 1 لاکھ روپے میں منتقل کیے گئے تھے، حالاں کہ کمپنی کے پاس مبینہ طور پر 1.77 کروڑ روپے کی زمین تھی۔ ایجنسی کے مطابق اے کے انفو سسٹمز نے جرائم کی آمدنی کو چھپانے اور گھوٹالے اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان غیر واضح رابطے کے طور پر کام کیا۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے یہ بھی الزام لگایا کہ اے بی ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، جسے لالو پرساد یادو کے خاندان اور کٹیال کے زیر کنٹرول ایک شیل کمپنی کے طور پر بیان کیا گیا ہے، نے D-1088، نیو فرینڈز کالونی، دہلی میں ایک پراپرٹی لے رکھی تھی، جس کا استعمال غیر قانونی فنڈز کو معیشت میں ضم کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ رابڑی دیوی جرائم سے حاصل ہونے والی آمدنی سے فائدہ اٹھانے والی تھیں اور یہ فنڈز شیل کمپنی کے ذریعے تیجسوی یادو کو منتقل کیے گئے تھے، جو اس وقت مبینہ طور پر نیو فرینڈز کالونی پراپرٹی کی تعمیر میں استعمال کیے گئے تھے۔
اب تک کی کارروائی
ایجنسی نے اس معاملے میں اب تک 6.02 کروڑ روپے کے غیر منقولہ اثاثے ضبط کیے ہیں اور کٹیال کو گرفتار کیا ہے۔ گذشتہ برس دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں لالو پرساد یادو، تیج پرتاپ یادو اور تیجسوی یادو کو ضمانت دی تھی۔ وہیں صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے لالو پرساد یادو کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
چین کے صدر شی جن پنگ تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے، صدر ڈونلڈ…
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا…
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…