بین الاقوامی

The consequences of cutting humanitarian aid will be dangerous: انسانی امداد کے لیے بڑے ممالک کی جانب سے فنڈنگ میں کٹوتی کے نتائج ہوں گے خطرناک، اقوام متحدہ نے کیا خبردار

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ 300 ملین افراد کو امداد کی ضرورت ہے اور ایسی صورت حال میں انسانی امداد کے فنڈز میں کی جانے والی کٹوتی عالمی سطح پر سخت نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر فلیچر نے بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک نیوز بریفنگ میں کہا ’’بہت سے لوگ مارے جائیں گے کیوں کہ امداد ختم ہو رہی ہے۔‘‘

فلیچر نے کہا کہ ’’انسانی امداد کے پروگرامز بند کیے جا رہے ہیں۔ اس کے عملے کو جانے دیا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں صرف فروری کے دوران مدد کرنے والی این جی اوز کے دس فیصدی عملے کو فارغ کر دیا گیا ہے۔‘‘ فلیچر نے ماہ غزہ کے اپنے حالیہ دورے کے بارے میں خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پٹی جانے والی تمام خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر ضروری سامان پر اسرائیلی ناکہ بندی کے درمیان غزہ میں ہمارا ضروری امدادی سامان بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا ’’صورت حال یہ ہے کہ ہمیں ایندھن نہیں مل پا رہا ہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ انکیوبیٹرز بند کے جا رہے ہیں۔ پہلے ایک بحران سے گزر رہے غزہ میں یہ صورت حال ایک اور بڑے انسانی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔‘‘ گزشتہ ماہ غزہ کے اپنے دورے کے بارے میں بتاتے ہوئے فلیچر نے مزید کہا کہ ’’پہلی چونکا دینے والی چیزوں میں سے ایک جو میں نے گاڑی چلاتے ہوئے دیکھی وہ یہ کہ کتے ملبوں میں گھس رہے ہیں۔‘‘ یہ بات انھوں نے اس انسانیت سوز بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہی کہ غزہ میں آوارہ کتے کھانے کی تلاش میں بمباری کے سبب تباہ ہو چکی عمارتوں کے ملبے میں دبی ہوئی لاشوں تک پہنچنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ فلیچر کا بیان ریاستہائے متحدہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس اعلان کے چند دن بعد سامنے آیا ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے 83 فیصد پروگراموں کو منسوخ کر دے گا۔ فلیچر نے کہا کے امریکہ نے سب سے سخت کٹوتی کی ہے، تاہم دوسرے ممالک بھی اپنے امدادی بجٹ میں کمی کر رہے ہیں۔ فلیچر نے کہا ’’صرف امریکی حکومت ہی نہیں، دوسری حکومتیں بھی ایسا ہی کر رہی ہیں۔‘‘ تاہم فلیچر نے یہ نہیں بتایا کہ کن ممالک نے خاص طور پر امداد میں کمی کی ہے۔

نتائج ہو سکتے ہیں حیران کن حد تک خطرناک

فلیچر نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے کے لیے فنڈنگ کی کمی کا اثر غزہ سمیت اور بھی بہت سے انتہائی ضرورت مند علاقوں پر پڑے گا۔ دریں اثنا تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ انسانی امدا میں امریکی کٹوتی کے اثرات اور بھی زیادہ وسیع اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ امریکی کٹوتیوں سے دنیا کی مہلک ترین متعدی بیماری ’’تپ دق‘‘ کے علاج کی کوششیں بند ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح افریقہ میں ایبولا وائرس کی نگرانی کا کام بھی خطرے میں پڑ گیا ہے، کیوں کہ اس کی نگرانی کے لیے امریکی مدد سے کام کرنے والی این جی اوز اپنا کام بند کرنے پر مجبور ہیں۔ ماہرین صحت اور امدادی تنظیموں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ بہت سے افریقی ممالک میں ایچ آئی وی/ایڈز پروگراموں کے لیے امریکی فنڈنگ ​​میں کٹوتی براعظم میں لاکھوں اموات کا باعث بن سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

2 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

3 hours ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

5 hours ago