امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر ایک بار پھر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر انہیں موقع ملتا تو وہ ایران کے وسیع تیل ذخائر پر قبضہ کر لیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے امریکہ کو بڑا معاشی فائدہ ہو سکتا تھا۔ ٹرمپ نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
’’ایران کے تیل سے خوب پیسہ کماتا‘‘
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’اگر ایرانی تیل پر میرا اختیار ہوتا تو میں اسے اپنے کنٹرول میں لے لیتا۔ اس سے بہت زیادہ پیسہ کمایا جا سکتا تھا۔‘‘ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ نے کسی ملک کے قدرتی وسائل پر قبضے کی بات کی ہو، لیکن جنگ کے دہانے پر کھڑے ایران کے تناظر میں اس بیان کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے شہری اب آزادی چاہتے ہیں اور وہاں کے موجودہ حالات ایسے ہیں کہ لوگ تبدیلی کے لیے بے چین ہیں۔
امریکی فوجیوں کی واپسی کے اشارے
ایک جانب جہاں ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر سخت مؤقف اپنائے نظر آئے، وہیں دوسری جانب انہوں نے امریکی عوام کے جذبات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکہ کے لوگ طویل عرصے سے جاری جنگوں سے تھک چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، ’’ہمارے لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے فوجی واپس اپنے گھروں کو آئیں۔ ہم مزید جنگ نہیں چاہتے، لیکن ہمیں اپنی سلامتی اور مفادات کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔‘‘
جنگ مستقل طور پر ختم ہونی چاہیے: ایران
ادھر سفارتی محاذ پر ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ایران نے امریکہ کی جانب سے بھیجے گئے 45 دن کے عارضی جنگ بندی کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق تہران نے واضح کیا کہ اسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جنگ مستقل طور پر ختم ہونی چاہیے اور اسے مضبوط سکیورٹی ضمانت درکار ہے۔ ایران نے الزام لگایا کہ امریکہ وقت حاصل کرنے کے لیے ایسے منصوبے پیش کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی ڈیڈ لائن اور خطرہ
دنیا کے لیے سب سے بڑی تشویش آبنائے ہرمز کو لے کر ہے، جسے ایران نے بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اگر یہ سمندری راستہ بند ہو جاتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے اپنی پالیسی نہ بدلی تو اس کے بجلی گھروں اور پلوں جیسے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت پہلے ہی 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے کئی ممالک میں مہنگائی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
امریکی ریسکیو آپریشن اور فوجی سرگرمیاں
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ آج ایک بڑی پریس کانفرنس کرنے والے ہیں، جس میں وہ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ نظر آ سکتے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ حال ہی میں ایران کے اندر کیے گئے ایک کامیاب ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بھی شیئر کریں گے، جس میں ایک امریکی فضائیہ کے اہلکار کو بچایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔
کیا ایران جنگ ٹلے گی یا مزید بڑھے گی؟
فی الحال صورتحال نہایت نازک ہے۔ ایک جانب اسرائیل نے تہران کے فوجی ٹھکانوں پر فضائی حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان اور عمان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان نے ’اسلام آباد معاہدہ‘ کے نام سے دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں فوری جنگ بندی اور بعد میں جوہری مسائل پر مذاکرات کی تجویز دی گئی ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں ٹرمپ کے اگلے اعلان پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ حملے کا حکم دیتے ہیں یا مذاکرات کی کوئی نئی راہ نکلتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…