بنگلہ دیش کی سیاست میں اس وقت اگر سب سے زیادہ کسی نام کی چرچا ہے تو وہ طارق رحمان ہیں۔ تقریباً 17 برس تک لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد انہوں نے بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں شاندار فتح حاصل کرتے ہوئے سیاست میں دھماکے دار واپسی کی ہے۔ اب وہ ملک کے اگلے وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔ طارق رحمان کی زندگی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں، جس میں الزامات، سزائیں، جلاوطنی، وطن واپسی اور پھر اقتدار تک پہنچنے کی زبردست کہانی شامل ہے۔ ان کے سیاسی سفر کے پیچھے ایک طویل اور متنازع تاریخ رہی ہے۔ اس میں سال 2004 میں شیخ حسینہ کی ریلی پر ہونے والا گرنیڈ حملہ، اس کے بعد عمر قید کی سزا اور پھر وقت کے ساتھ تمام سزاؤں کا منسوخ ہونا شامل ہے، جس کے بعد انہوں نے دوبارہ سیاست میں قدم رکھا۔
آج طارق رحمان ایک بار پھر اقتدار کے مرکز میں ہیں اور ان کی واپسی نے نہ صرف بنگلہ دیش کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ پورے خطے کی نظریں بھی ان پر مرکوز ہو گئی ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ طارق رحمان سابق صدر ضیاءالرحمان اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بڑے بیٹے ہیں۔ ضیاءالرحمان بنگلہ دیش کی تحریکِ آزادی کی نمایاں شخصیت تھے اور بعد ازاں 1977 سے 1981 تک ملک کی قیادت کی۔ طارق نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کی تعلیم کا آغاز کیا، تاہم وہ اپنی ڈگری مکمل نہ کر سکے۔ بعد میں انہوں نے کاروبار میں بھی ہاتھ آزمایا، مگر اصل پہچان انہیں سیاست کے میدان میں ملی۔
طارق رحمان کون ہیں؟ (Bangladesh Next PM Tarique Rahman)
طارق رحمان کی پیدائش 20 نومبر 1965 کو ڈھاکہ میں ہوئی۔ وہ سابق صدر ضیاءالرحمان اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بڑے بیٹے ہیں۔ ضیاءالرحمان بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور 1977 سے 1981 تک ملک کے صدر رہے۔ ان کے قتل کے بعد خالدہ ضیاء نے بی این پی کی قیادت سنبھالی۔ طارق نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کی تعلیم شروع کی، مگر ڈگری مکمل نہیں کی۔ بعد ازاں انہوں نے کاروبار میں قسمت آزمائی کی، لیکن سیاست ہی وہ میدان تھا جہاں سے انہیں اصل شناخت ملی۔
‘ڈارک پرنس’ اور ‘شیڈو پی ایم’ کی شبیہ
2001 سے 2006 کے درمیان، جب ان کی والدہ خالدہ ضیاء وزیر اعظم تھیں، طارق رحمان کو ‘ڈارک پرنس’ اور ‘شیڈو وزیر اعظم’ کہا جانے لگا۔ الزام تھا کہ وہ پردے کے پیچھے سے حکومت چلا رہے تھے۔ ‘ہوا بھون’ نامی ایک غیر رسمی دفتر سے فیصلے کیے جانے کی باتیں سامنے آئیں۔ اپوزیشن اور ناقدین کا کہنا تھا کہ طارق نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، مگر بی این پی کے اندر ان کا اثر و رسوخ سب سے زیادہ تھا۔ تاہم طارق رحمان نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔
بدعنوانی کے الزامات اور لندن کی جلاوطنی
2006 کے بعد بنگلہ دیش میں سیاسی بے چینی بڑھی اور فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت قائم ہوئی۔ اسی دوران طارق رحمان کو منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ 2008 میں رہائی کے بعد وہ علاج کے بہانے لندن چلے گئے اور پھر 17 سال تک وہیں مقیم رہے۔ اس عرصے میں بی این پی بتدریج کمزور ہوتی گئی—سینئر رہنما جیل گئے، کارکن حاشیے پر چلے گئے اور ایک کے بعد ایک انتخابات میں پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
شیخ حسینہ پر گرنیڈ حملہ اور عمر قید
21 اگست 2004 کو ڈھاکہ میں شیخ حسینہ کی ریلی پر گرنیڈ حملہ ہوا، جس میں 24 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اس وقت ملک میں بی این پی کی حکومت تھی۔ بعد میں عوامی لیگ کی حکومت نے طارق رحمان کو اس حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ 2018 میں ایک خصوصی عدالت نے انہیں غیر حاضری میں عمر قید کی سزا سنائی۔ بی این پی نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا۔ تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد معاملہ پلٹ گیا۔ دسمبر 2024 میں عدالت نے تمام سزائیں منسوخ کر دیں اور 2025 میں سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ قانونی طور پر اب طارق رحمان مکمل طور پر بری ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…