ماں باپ اپنے بچوں کو اسکول اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل روشن ہو سکے، لیکن غازی آباد کے صاحب آباد میں ایک ایسا اسکول بھی ہے جہاں بچوں کے مستقبل کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی بھی خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔ یہاں ایک نجی اسکول نہ صرف ایک خستہ حال اور پرانی عمارت میں چل رہا ہے، بلکہ اس کی چھت پر نصب بڑاموبائل ٹاور ہر لمحہ 200 معصوم بچوں پر ’سلو پوائزن‘ کی طرح ریڈی ایشن برسا رہا ہے۔
خستہ حال چھت اور اوپر ریڈی ایشن کا خطرہ
صاحب آباد علاقے میں چلنے والے اس نجی اسکول کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق عمارت پہلے ہی خستہ حال ہے اور اس پر نصب بھاری بھرکم موبائل ٹاور کا وزن کسی بھی دن بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم اس سے بھی بڑا خطرہ وہ ریڈی ایشن ہے جو نظر تو نہیں آتی مگر خاموشی سے نقصان پہنچا رہی ہے۔ اسکول میں تقریباً 200 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کی عمریں بہت کم ہیں۔ سائنسی طور پر ثابت ہے کہ بچوں کے نشوونما پاتے دماغ اور جسم پر ریڈی ایشن کا اثر بالغ افراد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
انتظامیہ کی خاموشی پر ملی بھگت کے الزامات
مقامی شہریوں اور والدین میں اس معاملے پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ نجی اسکول انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے یہ سب کچھ چل رہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ وہ مجبوری یا لاعلمی کے باعث بچوں کو اسکول بھیج رہے تھے، لیکن اب ریڈی ایشن کے خوف نے ان کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اسکول کی جانچ کرائی جائے اور اگر قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اسکول کو سیل کیا جائے یا ٹاور ہٹوایا جائے۔
انتظامیہ کس بات کا انتظار کر رہی ہے؟
صاحب آباد کے اس اسکول کی چھت پر نصب ٹاور انتظامیہ کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا انتظامیہ کسی بڑے حادثے یا بچوں کے بیمار ہونے کا انتظار کر رہی ہے؟ اس معاملے پر جب ہم نے ضلع کے بیسک شکشا ادھیکاری (بی ایس اے) او پی یادو سے بات کی تو انہوں نے پہلے اس بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات سے انکار کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ انہیں ابھی اس معاملے سے متعلق فون آیا ہے اور وہ اس پر مناسب کارروائی کریں گے۔
قواعد و ضوابط کیا کہتے ہیں؟
جہاں ایک طرف صاحب آباد میں اس طرح کی لاپروائی جاری ہے، وہیں پڑوسی شہر گریٹر نوئیڈا میں انتظامیہ اس معاملے پر سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ اس کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے این سی آر اور ملک کے دیگر حصوں کے قواعد پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب گریٹر نوئیڈا میں بچوں کی حفاظت کے لیے ٹاور پر پابندی لگ سکتی ہے تو غازی آباد میں کیوں نہیں؟
گریٹر نوئیڈا کی پالیسی:
گریٹر نوئیڈا اتھارٹی نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب اسکولوں، اسپتالوں اور شاپنگ سینٹروں کی چھتوں پر موبائل ٹاور نصب نہیں کیے جائیں گے۔ پارکوں یا کمیونٹی سینٹروں میں ٹاور لگانے کے لیے بھی اتھارٹی کی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔
محفوظ فاصلے کا معیار:
عوامی صحت اور سلامتی کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں موبائل ٹاور لگانا اکثر ممنوع ہوتا ہے۔ رہنما ہدایات کے مطابق ٹاور کو اسکولوں سے کم از کم 500 میٹر کی محفوظ دوری پر ہونا چاہیے۔ پلے اسکول یا کسی بھی اسکول کے احاطے میں ٹاور نصب کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے اور غیر مجاز ٹاور پر قانونی کارروائی کی شق موجود ہے۔
احمد آباد کی مثال:
حال ہی میں گجرات کے احمد آباد میں شیوَم ودیالیہ کی چھت پر لگے ٹاور کے معاملے میں محکمۂ تعلیم نے سخت مؤقف اپنایا تھا۔ فائر ڈیپارٹمنٹ کی این او سی (NOC) نہ ہونے اور بچوں کی صحت کو لاحق خطرے کے پیش نظر ٹاور ہٹانے اور معائنہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
1 میٹر کے دائرے میں 100 گنا ریڈی ایشن
ماہرین کے مطابق موبائل ٹاور کے اینٹینا کے بالکل سامنے اور نیچے سب سے زیادہ خطرناک لہریں خارج ہوتی ہیں۔ ٹاور کے 300 میٹر کے دائرے میں ریڈی ایشن کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ٹاور کے 1 میٹر کے علاقے میں ریڈی ایشن کی مقدار 100 گنا تک زیادہ ہو سکتی ہے۔ صاحب آباد کے اس اسکول میں بچے عین اسی چھت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس کے اوپر یہ ٹاور نصب ہے۔ ٹاور پر جتنے زیادہ اینٹینا ہوں گے، خطرہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…