بین الاقوامی

Strait of Hormuz Crisis: آبنائے ہرمز بحران، یونان اور جرمنی کا فوجی شمولیت سے انکار

ایتھنز: یونان نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ حکومت کے ترجمان پاولوس ماریناکس نے پیر کے روز کہا کہ ملک کا جنگ میں شامل ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

یونان کا مؤقف واضح

ماریناکس نے باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یورپی یونین کے آپریشن ’شیلڈ‘ میں یونان کی موجودہ شرکت صرف بحیرہ احمر (ریڈ سی) تک محدود ہے اور اس کا آبنائے ہرمز سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن میں فی الحال صرف یونان اور اٹلی کے جہاز شامل ہیں، جن کا مقصد خطے میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

بین الاقوامی قانون پر زور

انہوں نے مزید کہا کہ یونان ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا حامی رہا ہے اور ہر حال میں جنگ سے دور رہنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم کسی بھی صورت میں جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔”

امریکہ کی اپیل اور ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرنے والے کچھ ممالک سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کے لیے ایک اتحاد میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے۔ حالانکہ، انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔

جرمنی کا بھی انکار

دوسری جانب جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی پیر کے روز امریکہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے برلن میں اپنے لاتوین ہم منصب اینڈرس اسپرڈز کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ جرمنی اس خطے میں کسی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔

سفارتی حل پر زور

پسٹوریئس نے کہا کہ جرمنی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، لیکن یورپ کی جانب سے فوجی مداخلت کی ضرورت پر شکوک کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ہماری جنگ نہیں ہے، اور نہ ہی ہم نے اسے شروع کیا ہے۔”

نیٹو سے متعلق وارننگ

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر نیٹو اتحادی امریکہ کی مدد کے لیے آگے نہیں آئے تو نیٹو کا مستقبل ’انتہائی خراب‘ ہو سکتا ہے۔ اسی دوران آسٹریلیا نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اس خطے میں جنگی جہاز نہیں بھیجے گا۔

ایندھن کے ذخائر کی تفصیل

آسٹریلیائی وزیر کیتھرین کنگ نے بتایا کہ پیر تک ملک کے پاس تقریباً 37 دن کا پیٹرول، 30 دن کا ڈیزل اور 29 دن کا جیٹ فیول ذخیرہ موجود ہے۔ حکومت نے ایندھن ذخیرہ کرنے سے متعلق کچھ قوانین میں عارضی نرمی بھی دی ہے۔

سفری انتباہ جاری

آسٹریلیائی حکومت نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بحرین، ایران، عراق، اسرائیل، کویت، لبنان، فلسطین، قطر، شام، یمن اور متحدہ عرب امارات کے راستے سفر کرنے سے گریز کریں۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ان ممالک کے ذریعے ٹرانزٹ سے بھی بچیں، کیونکہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور پروازیں اچانک تبدیل یا منسوخ ہو سکتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago