بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو 2 جولائی 2025 کو بین الاقوامی جرائم کے ٹریبونل (آئی سی ٹی) نے توہین عدالت کے مقدمے میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ یہ سزا ایک لیک شدہ فون کال کی بنیاد پر دی گئی، جو گزشتہ سال سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ اس آڈیو کلپ میں شیخ حسینہ مبینہ طور پر گوبنداگنج کے سابق چیئرمین اور بنگلہ دیش چھاترا لیگ کے رہنما شکیل اکانڈ بلبل سے کہتی ہیں کہ ان کے خلاف 227 مقدمات درج ہیں، اس لیے انہیں “227 افراد کو قتل کرنے کا لائسنس مل گیا ہے۔ اس بیان کو ٹریبونل نے عدلیہ کی توہین اور عدالتی کارروائیوں کو متاثر کرنے کی کوشش سمجھا۔ اسی مقدمے میں شکیل اکانڈ بلبل کو بھی دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ تین رکنی بینچ نے کیا، جس کی سربراہی جسٹس محمد گولام مرتضیٰ مزمدر نے کی۔ سزا کا اطلاق اس وقت ہوگا جب شیخ حسینہ گرفتار ہوں گی یا خودسپردگی کریں گی، کیونکہ وہ اگست 2024 سے بھارت میں خودساختہ جلاوطنی میں ہیں۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ نے اس فیصلے کو “سیاسی انتقام” اور “دکھاوے کا ٹرائل” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سے نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے عبوری حکومت کی قیادت سنبھالی، آئی سی ٹی نے صرف عوامی لیگ کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا، جبکہ شہریوں، صحافیوں، مذہبی اقلیتوں اور خواتین کے خلاف جرائم کو نظر انداز کیا گیا۔ عوامی لیگ نے عدالتی عمل کی غیرجانبداری پر بھی سوال اٹھائے، کیونکہ موجودہ انتظامیہ کے کئی عہدیداروں نے شیخ حسینہ کو عوامی طور پر مجرم قرار دیا، جو منصفانہ ٹرائل کے امکان کو کمزور کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب شیخ حسینہ کے خلاف جون 2025 میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بھی عائد کیے گئے، جو جولائی اور اگست 2024 کے پرتشدد مظاہروں سے متعلق ہیں، جن میں اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے۔
بتادیں کہ آئی سی ٹی کا قیام 2010 میں خود شیخ حسینہ کی حکومت نے 1971 کی جنگ آزادی کے دوران پاکستانی فوج اور ان کے مقامی ساتھیوں کے جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کے لیے کیا تھا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ وہی ٹریبونل اب انہیں سزا دے رہا ہے۔ شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے بعد اقتدار سے محروم ہوئیں اور بھارت فرار ہوگئیں۔ وہ متعدد مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں، جن میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بھی شامل ہیں۔ فی الحال وہ بھارت میں ہیں اور انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ٹریبونل نے ان کے خلاف تین وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، لیکن ان کی واپسی کے امکانات غیر یقینی ہیں، کیونکہ بھارتی حکومت پر انہیں واپس بھیجنے کا دباؤ ایک پیچیدہ سفارتی معاملہ ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…