بین الاقوامی

Russia-Ukraine War: روس کی یوکرین پر ونٹر اسٹرائیک، کیف اور خارکیف شہر کو میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بنایا نشانہ، 13 افراد زخمی، کئی علاقوں میں بلیک آوٹ

نئی دہلی :روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ تقریباً چار برس مکمل کرنے کے قریب ہے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ اب تک جنگ بندی پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں روس نے ہفتہ کی علی الصبح یوکرین کے دو بڑے شہروں، دارالحکومت کیف اور دوسرے بڑے شہر خارکیف، پر شدید فضائی حملہ کیا، جس میں کم از کم 13 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملے شدید سردی کے دوران کیے گئے، جس سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔حکام کے مطابق روسی افواج نے ڈرون اور میزائلوں کے ذریعے کیف اور خارکیف کو نشانہ بنایا۔ کیف میں دو افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جب کہ خارکیف میں 11 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یہ حملے ہفتہ 24 جنوری کی صبح کیے گئے، جس سے دونوں شہروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

کیف کے میئر ویتالی کلیچکو نے بتایا کہ دارالحکومت میں زخمی ہونے والے دونوں افراد کی حالت نازک ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والے دریائے نیپرو کے دونوں کناروں پر واقع اضلاع میں حملے ہوئے ہیں۔ میئر کے مطابق کیف پر دشمن کا ایک بڑا اور منظم حملہ کیا گیا۔یوکرین کی فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ روس نے اس کارروائی میں ڈرون اور میزائل دونوں کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق کیف پر سو سے زائد ڈرون داغے گئے۔ کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ کم از کم تین اضلاع میں ڈرون حملے ریکارڈ کیے گئے، جن کے نتیجے میں دو مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔

دارالحکومت کیف میں نئے سال کے بعد یہ رات کے وقت ہونے والے بڑے حملوں میں سے ایک ہے۔ ان حملوں کے باعث سیکڑوں رہائشی عمارتوں میں بجلی اور ہیٹنگ کا نظام متاثر ہو گیا ہے۔ ہنگامی خدمات کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں بجلی اور حرارتی سہولیات بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حملے کے وقت درجۂ حرارت منفی 13 ڈگری سیلسیس تک گر چکا تھا، جس نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا۔دوسری جانب روسی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع شہر خارکیف، جو اکثر روسی حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے، ایک بار پھر شدید حملے کی زد میں آیا۔ خارکیف کے میئر ایگور تیریکوف نے بتایا کہ روسی ڈرونز نے شہر کے کئی اضلاع پر حملہ کیا، جس میں 11 افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق ڈرون حملے ایک ایسے ہاسٹل پر بھی کیے گئے جو بے گھر افراد کے لیے استعمال ہو رہا تھا، اس کے علاوہ ایک اسپتال اور زچہ و بچہ اسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

یہ  حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین، روس اور امریکہ کے نمائندے متحدہ عرب امارات میں تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  میدان جنگ میں بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے امن کی امیدوں کو ایک بار پھر دھندلا دیا ہے۔مسلسل حملوں کے باعث یوکرین میں سکیورٹی کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور فضائی حملے کی وارننگ ملتے ہی محفوظ مقامات کا رخ کریں۔ عالمی برادری کی نظریں ایک بار پھر روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر مرکوز ہیں، جبکہ شدید سردی میں جاری یہ حملے انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

9 hours ago