بین الاقوامی

PM Balen Shah’s Post Sparks Debate: نیپال حکومت کے طریقۂ کار پر اپنی ہی پارٹی نے اٹھائے سوال، وزیر اعظم بالیندر شاہ کی پوسٹ سے چھڑی بحث

نئی دہلی: نیپال میں ان دنوں حالات انتہائی حساس بنے ہوئے ہیں۔ ملک میں جین زی کی تحریک کے بعد منتخب ہونے والی بالیندر عرف بالین شاہ کی حکومت کے خلاف خاصی ناراضی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لوگ سڑکوں پر حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ کشیدہ حالات اور عوامی غم و غصے کے درمیان نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ کی اپنی پارٹی ’راشٹریہ سوتنترا پارٹی‘ میں بھی اختلافات ابھرنے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

نصف شب پی ایم کی سوشل میڈیا پوسٹ

دراصل، وزیر اعظم شاہ نے آدھی رات کو فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے لکھا، ’’صحیح وقت آنے میں وقت لگتا ہے۔ اس میں تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن یہ غلط نہیں ہوگا۔ فکر نہ کریں۔ کبھی کبھی جو دیکھا اور سنا جاتا ہے، حقیقت اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھی اکیلے ہی لڑنا پڑتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے۔‘‘ وزیر اعظم کی یہ پوسٹ پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے حکومت کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر سخت تنقید کے بعد سامنے آئی ہے۔

کوئی اکیلا نہیں ہے: پارٹی کے رکن پارلیمنٹ

راشٹریہ سوتنترا پارٹی کے لیڈر منیش جھا نے نیپالی پارلیمنٹ میں زور دے کر کہا کہ تبدیلی کے لیے بڑے عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے والی حکومت میں کوئی بھی اکیلا نہیں کھڑا ہوتا۔ منیش جھا نے کہا، ’’ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ جیسا کہ پارلیمنٹ میں کہا گیا تھا، نیت یا مقصد پر کوئی شک نہیں ہے، لیکن کچھ ایسے شعبے ہیں جن میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس عظیم تاریخی موقع کو ضائع ہونے سے روکنے کے لیے چوکس رہنے اور حکومت کو متنبہ رکھنے کی ہماری کوشش جاری رہے گی۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کو عوام سے جڑے رہنا چاہیے۔ انہوں نے دوبارہ کہا، ’’میں حکومت کے ساتھ ہوں۔ یہاں کوئی اکیلا نہیں ہے۔‘‘

’’اب کالا چشمہ اتارنے کا وقت آ گیا ہے‘‘

دراصل، نیپالی پارلیمنٹ میں منیش جھا نے بالیندر شاہ حکومت کے انتظامی طریقۂ کار پر تنقید کرتے ہوئے حکومت کی نیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’حکومت کے بارے میں کوئی شک یا سوال نہیں ہے۔ حالانکہ، ایسا لگتا ہے کہ انتظامی صلاحیت میں کہیں کمی ہے اور اسے تسلیم کرنا ہوگا۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسے کیا معلوم نہیں ہے اور حکمرانی کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ منتخب نمائندوں کو عوام کے ساتھ جڑے رہنا چاہیے اور مشورہ دیا کہ اب ’’کالا چشمہ اتارنے‘‘ کا وقت آ گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

4 hours ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

5 hours ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

5 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

5 hours ago