مغربی ایشیا میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امن کی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔ اس گفتگو میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔ کریملن کے مطابق یہ فون کال امریکہ کی جانب سے کی گئی تھی اور دونوں لیڈروں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس وقت مغربی ایشیا ایک بڑے فوجی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے جو 28 فروری سے مسلسل جاری ہے۔ تقریباً گیارہ دن سے جاری اس جنگ نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے اور کئی ممالک اس تنازع کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
کریملن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پوتن نے اس گفتگو کے دوران مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مسئلے کا مستقل حل صرف سیاسی اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ روس ایران کا ایک اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے، اسی لیے پوتن نے اس بحران کے خاتمے کے لیے مختلف سفارتی راستوں پر غور کرنے کی تجویز پیش کی۔ ذرائع کے مطابق پوتن نے امریکی صدر سے کہا کہ موجودہ حالات میں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی شروعات خطے کے امن کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو نہ صرف مغربی ایشیا بلکہ عالمی استحکام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
اس ٹیلیفونک گفتگو کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ صدر پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ یوکرین کے محاذ پر روسی افواج کو کچھ علاقوں میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے اور وہ اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ کے نمائندوں کے ساتھ جاری مذاکرات کے ذریعے یوکرین بحران کا کوئی قابل قبول حل نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کریملن کے مطابق دونوں لیڈروں کے درمیان یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور دسمبر کے بعد ان کے درمیان یہ پہلی براہ راست بات چیت تھی۔ اس سے قبل اگست میں الاسکا میں دونوں لیڈر ایک ملاقات کے دوران آمنے سامنے بھی گفتگو کر چکے تھے۔ واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ فروری 2022 سے جاری ہے۔ روس نے اس کارروائی کو ”خصوصی فوجی آپریشن“ قرار دیا تھا جس کا مقصد یوکرین کو نیٹو کے اثر سے دور رکھنا اور روسی نژاد آبادی کے مفادات کا تحفظ بتایا گیا۔ تاہم یوکرین اور مغربی ممالک اسے روس کی براہ راست فوجی جارحیت قرار دیتے ہیں۔ موجودہ حالات میں مغربی ایشیا کے بحران کے ساتھ یوکرین جنگ بھی عالمی سیاست کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…
پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…
اکھلیش نے کہا کہ فارم-7 کے ذریعے گاؤں گاؤں اپوزیشن ووٹروں کے نام حذف کرانے…
وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر جاری بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’سیوا…
زیرِ تعمیر سڑک کے معائنے کے دوران وزیر پرویش ورما اور آپ رکنِ اسمبلی جرنیل…
نیپال میں 24 ستمبر سے ملک کے کئی حصوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے،…