ماسکو: دنیا کی سفارتی سیاست میں اس وقت گرین لینڈ کو لے کر غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس برف پوش جزیرے کو اسٹریٹجک اہمیت کے باعث حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، تو دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس معاملے میں ایسا بیان دے کر سب کو چونکا دیا ہے جسے مبصرین ’ماسٹر اسٹروک‘ قرار دے رہے ہیں۔ پوتن نے نہ صرف گرین لینڈ کی قیمت کو انتہائی معمولی بتایا بلکہ ڈنمارک کو اس کے نوآبادیاتی ماضی کی یاد بھی دلا دی۔
الاسکا کی مثال دے کر لگائی کوڑیوں کی قیمت
21 جنوری 2026 کو روسی سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے گرین لینڈ تنازعہ کو بالکل منفرد زاویے سے پیش کیا۔ انہوں نے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے 1867 کا حوالہ دیا، جب روس نے الاسکا کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا تھا۔ پوتن نے کہا کہ اگر اس وقت کے سودے کو آج کی مہنگائی کے مطابق دیکھا جائے تو الاسکا کی قیمت لگ بھگ 158 ملین ڈالر بنتی ہے۔ اسی حساب کتاب کو بنیاد بنا کر پوتن نے گرین لینڈ کی قیمت بھی نکال دی۔ ان کے مطابق گرین لینڈ کا رقبہ الاسکا سے کچھ ہی زیادہ ہے، اس لیے اس کی قیمت زیادہ سے زیادہ 200 سے 250 ملین ڈالر ہونی چاہیے، جو بھارتی کرنسی میں تقریباً 23 ارب روپے کے برابر ہے۔ پوتن کے اس بیان نے یورپی حلقوں میں کھلبلی مچا دی، کیونکہ جس خطے کو اسٹریٹجک، سیاسی اور تاریخی اہمیت حاصل ہے، اس کی قیمت ایک بڑے اسٹارٹ اپ سے بھی کم بتائی گئی۔
پوتن کا ڈنمارک پر حملہ
پوتن نے اپنے خطاب میں ڈنمارک کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک نے ہمیشہ گرین لینڈ کے ساتھ ایک کالونی جیسا سلوک کیا ہے اور اس جزیرے کے عوام کو کبھی مکمل خودمختاری نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق یورپ جو دنیا کو انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کا درس دیتا ہے، وہ خود اپنے ماضی کا سامنا کرنے سے گریز کرتا ہے۔ روسی صدر کے ان ریمارکس کو یورپ کے لیے خاصا شرمندہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پوتن نے دانستہ طور پر یورپ کے انسانی حقوق کے دعوؤں پر سوال اٹھائے ہیں، کیونکہ یہی یورپ یوکرین جنگ کے معاملے پر روس کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔
امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان دراڑ
جب پوتن سے براہ راست سوال کیا گیا کہ کیا روس اس تنازعہ میں کسی قسم کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، تو انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ روس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے بقول یہ امریکہ اور ڈنمارک کا باہمی مسئلہ ہے اور دونوں ممالک خود ہی اسے حل کریں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پوتن بظاہر لاتعلقی ظاہر کر کے درحقیقت امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتی خلیج سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
پوتن کے بیان کا مطلب
پوتن کے بیان کے بعد یہ بحث بھی تیز ہو گئی ہے کہ کیا کسی خطے کی قیمت محض اس کے رقبے یا وسائل سے لگائی جا سکتی ہے۔ یورپ گرین لینڈ کو اپنی خودمختاری اور شناخت سے جوڑ کر دیکھتا ہے، جبکہ پوتن نے اسے محض ایک زمینی سودے کی طرح پیش کیا۔ یہی بات اس بیان کو عالمی سیاست میں غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…