بین الاقوامی

Protests in Nepal for the return of the monarchy: نیپال میں بادشاہت کی واپسی کے لیے مظاہرہ کرنے والوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپ، کئی علاقوں میں کرفیو نافذ

نیپال کے سابق بادشاہ کے حامیوں کی جمعہ کو دارالحکومت میں ایک ریلی کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔ مظاہرین نیپال میں ختم شدہ بادشاہت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جھڑپ میں پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس، لاٹھیوں اور واٹر کینن کا استعمال کرنے کے بعد حکومت نے کٹھمنڈو کے متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

جھڑپوں میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مظاہرین نے قریبی عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی اور کم از کم دو عمارتوں کو آگ بھی لگا دی۔ نیپال کے سابق بادشاہ گیانیندر شاہ کے ہزاروں حامی ان کی حمایت کرنے والے مختلف گروہوں کے اتحاد کی طرف سے منعقدہ ریلی کے لیے کٹھمنڈو کے مشرقی کنارے پر جمع ہوئے تھے۔

کیسے شروع ہوئی جھڑپ؟

ہوائی اڈے کے قریب کھلے میدان میں ہونے والا یہ اجتماع پرامن ریلی کے لیے تھا، تاہم ایک سفید پک اپ میں سوار کچھ مظاہرین نے پولیس بیریکیڈ پر گاڑھی چڑھا دی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔ پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغنے کے علاوہ واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔ وہیں دارالحکومت کے دوسری طرف نیپال میں جمہوریت کے حامی ہزاروں لوگوں ایک الگ ریلی میں جمع ہوئے۔ ماؤسٹ پارٹی کی قیادت میں اس ریلی میں حزب اختلاف کے لیڈران شامل ہوئے، جنھوں نے 1996-2006 کے درمیان بادشاہت کے خاتمے کے لیے نیپال میں مسلح بغاوت کی تھی۔ اس ریلی میں شامل ایک رام کمار شریستھا نے کہا ’’بادشاہت کی واپسی ناممکن ہے۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ جو چیز ختم ہو چکی ہے، مر چکی ہے وہ دوبارہ زندہ ہو جائے۔‘‘

نیپال میں حالیہ مہینوں میں گیانیندر شاہ کو نیپال کے بادشاہ کے طور پر بحال کرنے اور ہندو مذہب کو ریاستی مذہب کے طور پر واپس لانے کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ بادشاہ کی حمایت کرنے والے ملک کی سیاسی جماعتوں پر بدعنوانی اور ناکام حکمرانی کا الزام لگاتے ہیں۔ بادشاہت کی حامی میں نکالی گئی ریلی کے شرکا میں سے ایک راجندر بہادر نے کہا ’’ملک کو بادشاہت کی طرف لوٹنے اور بادشاہ کو دوبارہ اقتدار دینے کی ضرورت ہے، کیوں کہ ملک میں سیاسی جماعتیں اور جمہوری نظام ناکام ہو چکا ہے۔ ‘‘

2006 میں گیانیندر نے چھوڑا تھا تخت

واضح رہے کہ 2006 میں زبردست مظاہروں نے گیانیندر کو اپنی آمرانہ حکمرانی چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا اور اس کے دو سال بعد پارلیمنٹ نے ووٹنگ کے ذریعے بادشاہت کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا۔ جاری مظاہروں کے درمیان نیپال کے سابق بادشاہ گیانیندر نے اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتی ہوئی حمایت کے باوجود فوری طور پر بادشاہت کی واپسی کے امکانات بہت کم ہیں۔

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Saharanpur News: دارالعلوم دیوبند نے خواتین اور بچوں کی انٹری پر لگائی پابندی، جانئے کیا ہے وجہ

کچھ دن پہلے دارالعلوم دیوبند نے طلباء کے لیے ایک نیا گائیڈ لائن جاری کیا…

43 minutes ago

Sreeleela mistreated: اداکارہ سری لیلا کے ساتھ بدتمیزی، بھیڑ میں سیلفی لینے کیلئے ایک مداح نے اپنی طرف کھینچا، دیکھئے ویڈیو

سری لیلا کو ایک مداح نے زبردستی کھینچ لیا، اتوار (6 اپریل) کو پاپرازی انسٹاگرام…

1 hour ago

Jayasuriya’s appeal to PM Modi: سنتھ جے سوریا نے پی ایم مودی سے کی یہ اپیل، ملا یہ جواب

وزیر اعظم مودی نے اپنی ’پڑوسی پہلے‘ پالیسی کو دہرایا اور میانمار میں حالیہ زلزلے…

2 hours ago

Woman tied to pole in Patiala: پنجاب کے پٹیالہ میں ایک خاتون کو کھمبے سے باندھا، بدسلوکی کا ویڈیو وائرل

پولیس اسٹیشن صدر راج پورہ کے ڈی ایس پی رشیندر سنگھ نے کہا کہ واقعہ…

2 hours ago