بین الاقوامی

POK Rawalakot Clash: پی او کے میں خونریز جھڑپیں، جے اے اے سی کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے تصادم میں 12 افراد ہلاک، کشیدگی میں اضافہ

اسلام آباد: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (پی او کے) کے شہر راولاکوٹ میں منگل کے روز جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں آٹھ مظاہرین اور چار سکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جب کہ 20 سے زائد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب جے اے اے سی کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی اچانک شدت اختیار کر گئی۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور انتظامیہ نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کرتے ہوئے حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی۔

پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپوں کے نتیجے میں 12 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ کئی سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جے اے اے سی کے بعض عناصر نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور ان کے پاس جدید نوعیت کے ہتھیار بھی موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض افراد علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس کے ترجمان کے مطابق تصادم کے دوران چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 20 سے زیادہ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی حکومت نے جے اے اے سی کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیا تھا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ تنظیم نے 9 جون کو ایک بڑے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا تھا، جس کے پیش نظر امن و امان کو لاحق خطرات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جانب تنظیم کے حامی اس اقدام کو سیاسی دباؤ قرار دے رہے ہیں۔ جے اے اے سی ماضی میں بھی معاشی مسائل، مہنگائی، بجلی کے نرخوں اور سیاسی حقوق کے مطالبات کے حوالے سے متعدد احتجاجی تحریکیں چلا چکی ہے۔ مئی 2024 اور ستمبر 2025 میں بھی تنظیم کے زیر اہتمام ہونے والے بعض مظاہروں کے دوران کشیدگی اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں تنظیم سے وابستہ کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد راولاکوٹ احتجاجی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز بن گیا ہے۔ مقامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تنظیم پر پابندی اور سکیورٹی اقدامات میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 5 جون کی شب سے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جے اے اے سی کے دو کارکنوں، شاہ زیب حبیب اور امجد کشمیری، کی ہلاکت کی خبروں کے بعد عوامی غصے میں مزید اضافہ ہوا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی، جبکہ حکام ان الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔

راولاکوٹ کے علاوہ مظفرآباد، میرپور، ٹاٹا پانی اور پلندری سمیت کئی علاقوں میں بھی احتجاج، ہڑتالوں اور سڑکوں کی بندش کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض مقامات پر مظاہرین نے مرکزی شاہراہیں بند کر کے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس تحریک کو بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی جانب سے بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ برطانیہ میں کشمیری تارکین وطن نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، جبکہ امریکہ اور آسٹریلیا میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق 9 جون کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل خطے کی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

3 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

4 hours ago