بین الاقوامی

PM Modi meets South African President on sidelines of BRICS Summit: برکس سمٹ کے سائیڈ لائن پر جنوبی افریقہ کے صدر سے پی ایم مودی کی ملاقات، جانئے کن مدعوں پر ہوئی بات

وزیراعظم نریندر مودی برکس سمٹ میں حصہ لینے کیلئے جب برازیل پہنچے تو برازیل کے صدر لولا نے ان کا زبردست انداز میں استقبال کیا۔ پی ایم مودی نے صدر لولا کی طرف سے والہانہ استقبال کی جم کر تعریف کی ۔ برکس سمٹ کے سائیڈ لائن پر کئی دیگر ممالک کے سربراہان سے بھی پی ایم مودی کی ملاقت ہوئی ۔ اسی ضمن میں ایک غیر رسمی ملاقات جنوبی افریقہ کے صدر رامافوسہ  کے ساتھ ہوئی۔ دونوں رہنماوں کے مابین کچھ ہلکی پھلکی عالمی اور باہمی مفادات سے متعلق موضوعات پر گفتگو ہوئی اور دونوں رہنماوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔ اس ملاقات میں خاص طور پر کن موضاعات کا احاطہ کیا گیا ۔وزارت خارجہ کی جانب سے اس سلسلے میں تفصیلات کا انتظار ہے۔

وہیں دوسری جانب پی ایم مودی نے برکس اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کئی اہم مسائل کی طرف سربراہان کی توجہ مبذول کرائی۔وزیراعظم نے 17ویں برکس سربراہی اجلاس کے شاندار انعقاد پر برازیل کے صدر لولا کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر لولا کی متحرک قیادت نے برکس تعاون کو نئی توانائی اور جوش عطا کیا ہے، جو کہ “ایک ڈبل ایکسپریسو شاٹ” کی مانند ہے۔ انہوں نے صدر لولا کے وژن اور عزم کی تعریف کی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو کو برکس خاندان میں شامل ہونے پر مبارکباد دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی جنوب کو اکثر دوہرے معیار کا سامنا رہا ہے، چاہے وہ ترقی، وسائل کی تقسیم یا سیکیورٹی کے معاملات ہوں۔ عالمی جنوب کے مفادات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی، اور موسمیاتی مالیات، پائیدار ترقی، اور ٹیکنالوجی تک رسائی جیسے موضوعات پر محض علامتی اقدامات کیے گئے۔انہوں نے زور دیا کہ دو تہائی انسانیت کو ابھی تک 20ویں صدی کے عالمی اداروں میں مناسب نمائندگی نہیں ملی۔ آج کی عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے بہت سے ممالک کو فیصلہ سازی کے عمل میں جگہ نہیں دی گئی۔ یہ صرف نمائندگی کا معاملہ نہیں، بلکہ اداروں کی ساکھ اور افادیت کا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب کے بغیر یہ ادارے ایک موبائل فون کی طرح ہیں جس میں سم کارڈ تو ہے لیکن نیٹ ورک نہیں۔ یہ ادارے 21ویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام ہیں، چاہے وہ جاری تنازعات ہوں، وبائی امراض ہوں، معاشی بحران ہوں، یا سائبر اور خلائی چیلنجز ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا کو ایک نئے کثیر القطبی اور جامع عالمی نظام کی ضرورت ہے، جس کا آغاز عالمی اداروں میں جامع اصلاحات سے ہونا چاہیے۔ ان اصلاحات کا اثر محض علامتی نہیں، بلکہ واضح ہونا چاہیے۔ گورننس ڈھانچے، ووٹنگ حقوق، اور قیادت کے عہدوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ عالمی جنوب کے ممالک کے چیلنجز کو پالیسی سازی میں ترجیح دی جانی چاہیے۔انہوں نے برکس کی توسیع اور نئے شراکت داروں کی شمولیت کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، عالمی تجارتی تنظیم، اور کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں جیسے اداروں میں اصلاحات کے لیے اسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Poonam Dhillon Remembers Lata Mangeshkar: پونم ڈھلون نے لتا منگیشکر کو کیا یاد، بولیں-ان کے بغیر ہندی فلموں کی موسیقی ادھوری

’سریلا سفر-30‘ کے ذریعے بالی ووڈ کی ان میلوڈیز کو یاد کیا جاتا ہے جو…

28 minutes ago

Adani’s Dhamra Port: اڈانی کا دھامرا پورٹ قابل تجدید توانائی سے چلنے والا ہندوستان کی بن گئی پہلی نجی بندرگاہ

دھامرا پورٹ کو قابل تجدید بجلی فراہم کرنے کے لیے کیپٹیو رینیو ایبل پاور، تھرڈ…

2 hours ago

Sunil Lodhi Undergo Eye Treatment: ہنومان انش کے گلوکار کی آنکھوں کا ہوگا علاج، فلم کی پروڈیوسر اٹھائیں گی خرچ

انوپریا نے کہا کہ سنیل لوگوں کی محبت کو محسوس تو کر سکتے ہیں، لیکن…

2 hours ago

Amit Shah to Launch LNG-Powered Train: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ آج کریں گے ملک کی پہلی ایل این جی ٹرین کا افتتاح

بھارتی ریلوے کی جانب سے ایل این جی ڈوئل فیول ٹیکنالوجی اپنانا ایندھن کی کارکردگی…

2 hours ago