بین الاقوامی

Israel PM Netanyahu Hexagon Of Alliance: اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا ’ہیکساگون آف الائنس‘ منصوبہ، بھارت سمیت چھ ممالک کے اتحاد کی تیاری، مقصد کیا اور کس کے خلاف پیغام؟

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے مغربی ایشیا میں ایک نئے اسٹریٹجک اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جسے ’’ہیکساگون آف الائنس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مجوزہ اتحاد میں بھارت سمیت چھ ممالک کو شامل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اپنے اہم دو روزہ دورۂ اسرائیل پر روانہ ہونے والے ہیں، جسے خطے کی سفارتی سیاست میں بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کابینہ اجلاس کے آغاز پر انہوں نے اپنے ’’قریبی دوست‘‘ نریندر مودی کے تاریخی دورے کا ذکر کیا اور بھارت و اسرائیل تعلقات کو دو عالمی قیادتوں کے درمیان مضبوط شراکت داری قرار دیا۔ نتن یاہو کے مطابق دونوں ممالک اختراع، سلامتی اور مشترکہ اسٹریٹجک وژن کے میدان میں قدرتی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسرائیل مغربی ایشیا اور اس کے آس پاس موجود ہم خیال ممالک پر مشتمل ایک نیا تعاوناتی نیٹ ورک قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد ایسے عناصر کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنا ہے جنہیں اسرائیلی قیادت ’’انتہاپسند خطرہ‘‘ قرار دیتی ہے۔

ہیکساگون آف الائنس کیا ہے؟
نتن یاہو کے مطابق یہ فریم ورک چھ ممالک پر مشتمل ہوگا جن میں بھارت، یونان اور قبرص کے علاوہ عرب، افریقی اور ایشیائی خطوں کے چند اہم ممالک شامل کیے جا سکتے ہیں۔ اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ اس اتحاد کے ذریعے ایک ایسا اسٹریٹجک نظام تشکیل دیا جائے گا جو مشترکہ چیلنجز، سلامتی خدشات اور اقتصادی مفادات کے حوالے سے یکساں سوچ رکھتا ہو۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ دراصل انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور یعنی (آئی ایم ای سی) کے وژن سے متاثر دکھائی دیتا ہے، جس کا مقصد ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت، توانائی اور رابطہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ مجوزہ اتحاد اقتصادی تعاون، دفاعی اشتراک اور سفارتی ہم آہنگی کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کرے گا۔

ایران کو سفارتی پیغام؟
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس اتحاد کا اہم ہدف ایران کے اثر و رسوخ کا توازن قائم کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ خطے میں ایران سے منسلک اتحاد، جسے ’’ایکسیس آف ریزسٹنس‘‘ کہا جاتا ہے، طویل عرصے سے اسرائیل اور مغربی اتحادیوں کے لیے چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں نیا اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ اقدام خطے کی سیاسی ساخت کو اس انداز میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے جس سے صرف مخصوص ممالک کے مفادات کو فائدہ پہنچے گا۔

بھارت کے لیے موقع یا سفارتی آزمائش؟
نئی دہلی کے لیے اس مجوزہ اتحاد میں شامل ہونا بیک وقت موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ اس سے بھارت کی مغربی ایشیا میں اسٹریٹجک موجودگی مضبوط ہو سکتی ہے، دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھ سکتی ہے اور عالمی تجارتی راہداری منصوبوں میں کردار وسیع ہو سکتا ہے۔ تاہم سفارتی سطح پر بھارت کو عرب ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور ایران میں اپنے توانائی و تجارتی مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت محتاط حکمت عملی اختیار کرتا ہے تو یہ اتحاد اسے عالمی جغرافیائی سیاست میں ایک کلیدی طاقت کے طور پر مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کا ’’ہیکساگون آف الائنس‘‘ صرف ایک سفارتی منصوبہ نہیں بلکہ بدلتے عالمی نظام میں نئے طاقتور بلاک کی تشکیل کی کوشش بھی ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں مغربی ایشیا کی سیاست، سلامتی اور اقتصادی ڈھانچے پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

10 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

11 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

12 hours ago