امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی طویل عرصے بعد ملاقات ہوئی۔ ان کی ملاقات 30 اکتوبر کو جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہوئی۔ اس ملاقات سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نظر آئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے قبل چین اور امریکہ کے درمیان ٹیرف کی شدید جنگ چھڑ چکی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ بیجنگ نے اس ملاقات کی کوئی تصویر جاری نہیں کی، جس سے شی جن پنگ کی سوچ پر سوال اٹھے۔
چینی صدر نے جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن سربراہی اجلاس کے دوران ٹرمپ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کی بات چیت میں سویابین، فینٹینیل، نایاب زمینی معدنیات اور کمپیوٹر چپس جیسے مسائل کا احاطہ کیا گیا۔ امریکہ نے تصاویر جاری کیں تھیں، لیکن چین نے کوئی تصویر شیئر نہیں کی۔ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ شی جن پنگ نے ایک سخت امیج پیش کرنے کے لیے ایسا کیا، لیکن کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ اور شی جن پنگ کی تصاویرکی شیئر
وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ اور شی جن پنگ کی تصاویر جاری کی، جن میں شی جن پنگ ایک مختلف انداز میں نظر آئے۔ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں رہنما اپنے عہدیداروں کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ ایک تصویر میں شی جن پنگ آنکھیں بند کیے مسکراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان کے سامنے کاغذ کا ایک پیپر پکڑے ہوئے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد ٹرمپ نے چینی کابینہ کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ’’بزدل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے بزدل لوگ کبھی نہیں دیکھے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ امریکی ٹیرف سے ناراض چین نےامریکہ سے سویابین خریدنا بند کر دیا تھااور جوابی ٹیرف بھی لگا دیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس ملاقات کے بعد امریکا نے چین پر محصولات میں کمی کردی تھی، دوسری جانب چین نے سویا بین کی خریداری دوبارہ شروع کردی۔
بھارت ایکسپریس اردو
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بی جے پی کی ملک گیر مہم ’لوک تنتر بچاؤ،…
ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ اڈانی گروپ ہندوستان کے 2047 تک ترقی یافتہ ملک…
مرکزی وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد پر…
یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منی پور میں مختلف برادریوں سے تعلق…
انوج ٹھاکر نے 27 اکتوبر 2026 کو آخری سانس لی۔ قریبی دوست روپیش سونار کے…
یادداشت پر دستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان بڑھتی…