بین الاقوامی

A massive fire in Bongao, southern Philippines: فلپائن میں خوفناک آگ نے مچائی تباہی، ایک ہزار گھر راکھ کاڈیھر، ہزاروں بےگھر

نئی دہلی : فلپائن کے ایک چھوٹے سے جزیرے میں لگنے والی خوف ناک آگ نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار گھر جل کر خاک ہو گئے اور تقریباً پانچ ہزار افراد بے گھر ہو گئے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے میں افراتفری اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی۔ سرکاری خبر رساں ادارے پی این اے کے مطابق، آگ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجے بارنگائے لامیان نامی علاقے میں بھڑکی۔ آگ اس قدر شدید تھی کہ لگ بھگ چار گھنٹے تک بے قابو انداز میں دھکتی رہی۔ تیز ہواؤں نے شعلوں کو مزید بھڑکایا، جس کے باعث آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے گنجان آبادی والے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

یہ علاقہ ایک چھوٹے جزیرے پر واقع ہے، جہاں زیادہ تر مکانات پانی کے اوپر لکڑی کے کھمبوں پر بنے ہوئے تھے۔ گھروں کی تعمیر میں لکڑی، بانس اور ناریل کے پتوں جیسے ہلکے اور آتش گیر مواد کا استعمال کیا گیا تھا۔ مکانات ایک دوسرے کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے آگ تیزی سے ایک گھر سے دوسرے گھر تک پھیلتی چلی گئی، جس نے چند ہی گھنٹوں میں پوری بستی کو تباہ کر دیا۔آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں رات کے اندھیرے میں بلند شعلے اور آسمان تک اٹھتا سیاہ دھواں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیوز میں پورا علاقہ شعلوں کی لپیٹ میں نظر آ رہا ہے، جس سے اس سانحے کی ہولناکی واضح ہوتی ہے۔ اس آگ کے نتیجے میں ہزاروں خاندان اپنے گھروں، سامان اور روزمرہ کی بنیادی ضروریات سے محروم ہو گئے۔ متاثرہ افراد کو جان بچانے کے لیے اپنے گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ اس وقت بڑی تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے یا عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ساحلی اور جزیرہ نما علاقوں میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کا پہنچنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے آگ پر قابو پانے میں تاخیر ہوتی ہے۔ تنگ گلیاں، پانی پر قائم بستیاں اور ہلکے تعمیراتی مواد آگ کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی طور پر بجلی کے شارٹ سرکٹ یا کسی لاپرواہی کو ممکنہ وجہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم سرکاری سطح پر ابھی کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔مقامی حکومت اور امدادی ادارے متاثرہ خاندانوں کو خوراک، پانی، کپڑے اور عارضی رہائش فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق، متاثرین کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کا عمل طویل اور مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ ہزاروں افراد سب کچھ کھو چکے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

5 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

6 hours ago