بین الاقوامی

Palestinian President Mahmoud Abbas appoints deputy: فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے جانشین کا کردیا اعلان، اس شخص کو دی نائب کی ذمہ داری

 فلسطینی سیاست میں ہفتہ کے روزایک اہم پیش رفت دیکھنے کو ملی، جب صدر محمود عباس نے اپنے پرانے اتحادی اور قابل اعتماد ساتھی حسین الشیخ کو نیا نائب صدر مقررکیا ہے۔ یہ قدم محمود عباس کے جانشین کے تعین کی جانب ایک بڑا اشارہ قراردیا جا رہا ہے۔ 89 سالہ عباس کے طویل دوراقتدارکے بعد اب قیادت کی تبدیلی کے امکانات واضح ہوتے جارہے ہیں۔ حسین الشیخ کو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کا نائب صدرمقرر کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ راست طور پر فلسطینی صدر بن جائیں گے، لیکن اس سے وہ فتح پارٹی کے ان لیڈران میں سب سے آگے آگئے ہیں، جو محمود عباس کے جانشین بننے کی دوڑ میں ہیں۔ پی ایل او کا نائب صدر بننے کا مطلب ہے کہ محمود عباس کے نااہل ہونے  یا موت کی صورت میں حسین الشیخ قائم مقام صدربن سکتے ہیں۔

حسین الشیخ کی شبیہ کو سدھارنے کی کوشش 

حالانکہ یہ تقرری فلسطینی عوام کے درمیان فتح پارٹی کی پہلے سے چلی آرہی بند اوربدعنوان کی شبیہ کوسدھارنے میں شاید ہی مدد کرے۔ کئی سروے میں حسین الشیخ اور فتح قیادت کو عوام کے درمیان بے حد مقبول پایا گیا ہے۔ اس کے باوجود محمود عباس نے حال کے مہینوں میں پی ایل او اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) میں کئی اصلاحات کا اعلان کیا ہے تاکہ غزہ کے مستقبل میں اپنے کردار کو مضبوط کیا جاسکے۔

کون ہیں حسین الشیخ؟ جسے بنایا گیا نائب صدر

64 سال کے حسین الشیخ دہاں سے فتح تحریک سے جڑے رہے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ  رابطہ کاری کے اہم ذمہ دار رہے ہیں۔ وہ محمود عباس کے سب سے قریبی اتحادی مانے جاتے ہیں اور اسرائیل اور عرب ممالک کے ساتھ ان کے مضبوط تعلقات انہیں سیاسی طاقت دلاتی ہے۔ حالانکہ عوام کے درمیان ان کی شبیہ ایک ’اسرائیل کے تئیں نرم لیڈر‘ کی بنی ہوئی ہے، جسے لے کرنااتفاقی ہے۔ اس کے باوجود موجودہ صورتحال میں وہ فلسطینی قیادت میں طاقتور کردار نبھانے کے لئے تیار نظرآرہے ہیں۔

فلسطینی سیاست میں ٹکراو

واضح رہے کہ فلسطینی سیاست میں حماس اور پی ایل او کے درمیان لمبے وقت سے ٹکراو جاری ہے۔ حماس نے 2007 میں غزہ پر قبضہ کرلیا تھا اور تب سے کئی کوششوں کے باوجود دونوں گروپوں میں صلح نہیں ہوسکی ہے۔ ایسے میں، حسین الشیخ پر غزہ کے مستقبل سے متعلق قیادت کو متحد کرنے کا زبردست دباو ہوگا۔ اس درمیان سب سے مقبول لیڈرمروان برگوتی اب بھی اسرائیلی جیل میں بند ہیں۔ جن کی رہائی کا امکان مستقبل قریب میں نہیں نظرآرہا ہے۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Lehra Do Tiranga March: دفعہ 163 نافذ، سینٹرل پارک دو دن کے لیے بند، سی جے پی کی ترنگا یاترا پر دہلی پولیس کا بیان

نئی دہلی :سی جے پی اور عام آدمی پارٹی نے شہریوں سے ترنگا لے کر…

10 minutes ago

Punam Raut Quits International Cricket: پونم راوت نے بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا کیا اعلان

پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…

9 hours ago

Cnap System Telecom Rule: اسپیم اور فرضی کالز کا کھیل ختم! یکم نومبر سے موبائل صارفین کے لیے بڑی تبدیلی، جانیے پوری خبر

موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…

10 hours ago