بین الاقوامی

Pakistan’s new move amid tensions with Afghanistan: افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے درمیان پاکستان کی نئی چال، معاملے میں بھارت کو گھسیٹنے کی کوشش

نئی دہلی: پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے فوجی تصادم کے بیچ پاکستان نے اب اس تنازع میں بھارت کو بھی شامل کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے خلاف کھلی جنگ کے اعلان کے بعد خطے کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کی جوابی کارروائی کے چند گھنٹوں بعد پاکستانی فوج نے کابل اور قندھار پر فضائی حملے کیے۔ اس سے قبل افغانستان نے اتوار کو ہونے والی پاکستانی ایئر اسٹرائیک کے جواب میں حملہ کیا تھا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں 70 شدت پسند مارے گئے۔ حالانکہ، افغانستان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں عام شہری ہلاک ہوئے۔

پاکستان نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے طالبان حکومت پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان ان ممالک میں شامل تھا جس نے سب سے پہلے طالبان حکومت کو مبارکباد دی تھی۔ اسلام آباد کو امید تھی کہ طالبان حکومت اس کے قریب رہے گی اور دونوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

پاکستان نے صورتحال کا لگایا غلط اندازہ

حالانکہ، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان نے صورتحال کا غلط اندازہ لگایا۔ اسلام آباد کو یقین تھا کہ وہ افغانستان پر اثر و رسوخ برقرار رکھ سکے گا، لیکن طالبان نے پاکستان کے دباؤ میں آنے سے انکار کر دیا۔ طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے بڑے بھائی جیسا رویہ اپناتے ہوئے افغانستان کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے۔

اپنے مسائل براہِ راست حل کرنے کے بجائے پاکستان نے بھارت پر طالبان کی حمایت کا الزام لگا دیا، جسے بھارت نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی اندرونی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کا عادی ہے۔

طالبان کا پاکستان پر تعلقات خراب کرنے الزام

گزشتہ چند مہینوں کے دوران پاک۔افغان سرحد، خصوصاً ڈیورنڈ لائن پر خودکش حملوں، فضائی کارروائیوں اور زمینی جھڑپوں کے باعث شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ طالبان نے بھی پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

بھارت کے قریب ہو رہا ہے طالبان: پاکستان

پاکستان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ طالبان بھارت کے قریب ہو رہا ہے، جبکہ بھارت مسلسل افغانستان کے عوام کی انسانی بنیادوں پر مدد کرتا رہا ہے۔ افغانستان میں 6.3 شدت کے زلزلے کے بعد بھارت نے سب سے پہلے امدادی سامان بھیجا، جس میں بلخ اور سمنگان علاقوں کے لیے 15 ٹن غذائی امداد اور طبی سامان شامل تھا۔ بھارت اور افغانستان کے بہتر تعلقات ہمیشہ سے پاکستان کے لیے تشویش کا باعث رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اکثر اپنے ملک میں ہونے والی بدامنی کے لیے بھارت اور طالبان کو موردِ الزام ٹھہراتا رہا ہے۔

طالبان اور بھارت نے الزامات کو بتایا بے بنیاد

پاکستان نے بغیر ثبوت یہ الزام بھی لگایا کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے سرگرم ہے اور بھارت اس تنظیم کی حمایت کر رہا ہے۔ حالانکہ، طالبان اور بھارت دونوں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اسلام آباد افغانستان میں بھارت کی بڑھتی سفارتی موجودگی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ گزشتہ برس افغان وزیر خارجہ کے دورۂ بھارت کے دوران دونوں ممالک نے کابل میں بھارتی سفارتخانے کو دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تنازع میں بھارت کو گھسیٹنا حکمت عملی کا حصہ

ماہرین کے مطابق افغانستان کے ساتھ جاری تنازع میں بھارت کو گھسیٹنا پاکستان کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ داخلی بحران، معاشی مشکلات، ٹی ٹی پی کے بڑھتے خطرے اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے متعلق سیاسی تنازع سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے بھارت کو موردِ الزام ٹھہرانا ایک آسان سیاسی بیانیہ بن چکا ہے، جس کے ذریعے ملک کے اندرونی مسائل کی ذمہ داری بیرونی عناصر پر ڈالی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

5 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

6 hours ago