ترکمانستان کے اشک آباد میں انٹرنیشنل فورم فورپیس اینڈ ٹرسٹ پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس میٹنگ میں روس کے صدرولادیمیرپوتن، ترکی کے صدررجب طیب اردغان، پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف سمیت کئی ممالک کے لیڈران نے حصہ لیا ہے۔ حالانکہ اس میٹنگ میں پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف کی بڑی بے عزتی ہونے کی خبرسامنے آرہی ہے۔ آرٹی انڈیا کے مطابق، روسی صدرولادیمیرپوتن نے شہبازشریف کو40 منٹ تک انتظارکرایا ہے۔ خبریہ بھی سامنے آئی ہے کہ انتظار کے بعد شہبازشریف بغیربلائے اس کمرے میں گھس گئے، جہاں ولادیمیر پوتن ترکی کے صدررجب طیب اردغان کے ساتھ میٹنگ کررہے تھے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
آرٹی انڈیا نے اپنے نامہ نگاروں کے حوالہ سے آفیشیل ایکس (سابقہ میں ٹوئٹر) ہینڈل پرجانکاری دی ہے کہ پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف نے روسی صدرولادیمیرپوتن کے لئے 40 منٹ سے زیادہ وقت تک انتظارکیا۔ وہ کرسی پرمسلسل بیٹھے رہے، لیکن پوتن نہیں آئے۔ پوتن کا انتظارکرتے کرتے تھک جانے کے بعد شہبازشریف اس کمرے میں چلے گئے، جہاں پرولادیمیرپتن ترکی کے صدراردغان کے ساتھ میٹنگ کررہے تھے۔ اس کے 10 منٹ بعد شہبازشریف وہاں سے باہرنکل گئے۔
کئی بارپوتن کرچکے ہیں شہبازشریف کونظرانداز
ایسا پہلی بارنہیں ہے جب ولادیمیرپوتن نے شہبازشریف کونظراندازکیا ہے۔ اگست کے مہینے میں وزیراعظم نریندرمودی کی موجودگی میں بھی پوتن نے شہبازشریف کونظراندازکردیا تھا۔ بعد میں شہبازشریف کوپوتن سے کہنا تھا کہ بھلے ہی آپ کے ہندوستان سے مضبوط تعلقات ہیں، لیکن ہم بھی آپ سے تعلقات بنانا چاہتے ہیں۔
ترکمانستان میں پوتن نے کیا کہا؟
ترکمانستان کے دارالحکومت میں منعقدہ انٹرنیشنل پیس اینڈ ٹرسٹ فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، پوتن نے کہا، “ٹھیک 30 سال قبل 12 دسمبرکواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ترکمانستان کی غیرجانبداری کوباضابطہ طورپرتسلیم کیا تھا۔ اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، ترقی کے ماڈل کا احترام اورروایات کا تحفظ آج کی دنیا کے لئے زیادہ متعلقہ ہے۔” روس-ترکمانستان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کومثال کے طورپرپیش کرتے ہوئے، انہوں نے 2025 تک تجارت، توانائی اورٹرانسپورٹ کے منصوبوں میں 35 فیصد توسیع کا ذکر کیا۔