-بھارت ایکسپریس
پاکستانی صحافی آرزو کاظمی کا ٹوئٹ وائرل ہوگیا ہے۔
Pakistan: پڑوسی ملک پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت پوری طرح سے بدترہوچکی ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ یہاں کے لوگ اپنے ملک میں رہنا نہیں چاہتے ہیں۔ بڑھتی مہنگائی سے کھانے کی اشیا کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ کئی پاکستانی ملک چھوڑ کر باہر چلے گئے ہیں تو کچھ جانے کی تیاری میں ہیں۔ ایسے وقت میں ایک پاکستانی صحافی آرزو کاظمی کا وائرل ٹوئٹ سامنے آیا ہے۔ یہ ٹوئٹ نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان میں بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس ٹوئٹ میں آرزو کاظمی نے 1947 میں ان کی فیملی کے ذریعہ ہندوستان سے پاکستان چلے آنے کا ذکر کیا ہے۔ اب ان کے اس ٹوئٹ پر پاکستانی برادری کے ذریعہ ان کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔
آرزو کاظمی نے یکم اپریل کو اپنے ٹوئٹر سے ایک ٹوئٹ کیا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا۔ اس ٹوئٹ میں آرزو کاظمی نے لکھا تھا، ’’میرے بھائی اور دوسرے اہل خانہ کو لگتا ہے کہ اب ان کا پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔ بہتر مستقبل کی امید میں میرے دادا جی اور ان کا خاندان پریاگ راج سے دہلی اور پھر پاکستان آگیا۔‘‘ آرزو نے آخر میں لکھا، ’’واٹ لگا دی دادا جی نے۔‘‘
آرزو کاظمی کو مل رہی ہیں دھمکیاں
اس ٹوئٹ کے بعد سے ہی آرزو کاظمی کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ انہوں نے یو ٹیوب چینل پر ایک ویڈیو اپلوڈ کرکے ملی رہی دھمکیوں کے بارے میں بتایا۔ آرزو کاظمی کے ’’واٹ لگا دی دادا جی نے‘‘ والے ٹوئٹ کو کچھ لوگ پسند کر رہے ہیں تو کچھ لوگ آرزو کے اس ٹوئٹ سے ناراض ہیں۔ اس پر آرزو کاظمی نے کہا، ’میرے ٹوئٹ کو سب سے کافی پسند کیا اور اسے خوب وائرل کیا ہے۔ جن لوگوں نے پسند کیا ان کا بہت شکریہ اور ان لوگوں کا بھی شکریہ، جنہوں نے اسے پسند نہیں کیا۔‘
ہندوستان آنے کا ملا مشورہ
آرزو کاظمی نے مزید کہا، ’بہت سے لوگوں کے ذریعہ مجھے میسیج کیا گیا ہے تو کئی لوگوں نے فون کرکے خوب کلاس لے لی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ مجھے شرم آنی چاہئے کہ میں نے اس طرح کا ٹوئٹ کیا ہے۔ آرزو کے اس ٹوئٹ پر کئی ہندوستانیوں نے انہیں ہندوستان واپس آنے کا مشورہ دے دیا۔
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے اردو صحافت کانکلیو میں سابق مرکزی وزیرشاہنوازحسین اور سابق…