ہندوستان پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ 24 اور 25 اپریل کو کراچی کے ساحل سے دور اپنی خصوصی اقتصادی زون میں سمندر سے سمندر تک مار کرنے والا میزائل کا ٹیسٹ کرے گا۔ اس خبر نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر پہلگام حملے کے بعد جب بھارت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا اور سفارتی تعلقات کو کم کر دیاہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق، پاکستان کی فوج کے میڈیا ترجمان نے ابھی تک اس ٹیسٹ کے بارے میں سرکاری بیان جاری نہیں کیا، لیکن دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ میزائل “غزنوی” یا “شاہین” سیریز کا ہو سکتا ہے، جو 290 سے 2000 کلومیٹر تک کے فاصلے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ادھر ذرائع کے مطابق ہندوستانی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ٹیسٹ بھارت کے کچھ حصوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ادھر وزارت داخلہ میں را اور آئی بی کے سربراہان کی داخلہ سیکریٹری کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ جاری ہے تاکہ اس ممکنہ خطرے کا جائزہ لیا جا سکے۔آپ کو بتادیں کہ علاقائی تناظر میں، یہ میزائل ٹیسٹ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ہندوستان اور پاکستان کے مابین پہلگام حملے کے بعد تناتنی کا دور ہےاور ایسے میں پاکستان نے میزائل ٹسٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، اگر یہ میزائل جوہری صلاحیت رکھتا ہے، تو اس سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے حال ہی میں جوہری جنگ کے خطرات کا ذکر کیا تھا، جس سے اس ٹیسٹ کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ بھارت نے اسے پاکستان کی جانب سے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیسٹ پاکستان کی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر بھارت نے اسے اپنے خلاف براہ راست خطرہ سمجھا تو جوابی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں، جس سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ عالمی مبصرین اسے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ پانی اور میزائل جیسے تنازعات خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ فی الحال، دونوں ممالک کی فوجی تیاریاں اور سفارتی بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…
میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…
برطانوی حکومت نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو 23 مارچ 1931 کو…
ایسے میں 19 سالہ کارتک نے شکایت کرنے کے بجائے خود کچھ کرنے کا فیصلہ…
راگھو چڈھا نے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن…
آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…