اسلام آباد: پاکستان کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو ایک متنازع آئینی ترمیم منظور کر لی جس کے تحت صدر مملکت اور موجودہ آرمی چیف کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہو گیا ہے۔ اس ترمیم کو اپوزیشن نے جمہوری اداروں پر ایک سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عدلیہ کی خودمختاری اور سول بالادستی دونوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی، جس کے تحت فوجی اختیارات کو مزید وسعت دیتے ہوئے “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے۔ اس عہدے کے تحت موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر، جو مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپ کے بعد فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی پا چکے ہیں، کو بری فوج، فضائیہ اور بحریہ تینوں فورسز پر براہِ راست کمان کا اختیار حاصل ہوگا۔
ترمیم کے مطابق، فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے پر ترقی پانے والے تمام افسران کو تاحیات رینک، مراعات اور قانونی استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ مستقل طور پر وردی میں رہ سکیں گے اور ان کے خلاف کسی بھی فوجداری کارروائی کی اجازت نہیں ہوگی۔ ماضی میں یہ استثنیٰ صرف سربراہِ مملکت تک محدود تھا۔
اسلام آباد کے وکیل اسامہ ملک نے اس ترمیم کو “آمرانہ نظام کی مضبوطی” قرار دیا۔ ان کے مطابق، “یہ آئینی ترمیم جمہوریت کے باقی ماندہ آثار کو بھی ختم کر دے گی۔ سول حکومت کی نگرانی فوج پر ختم ہو جائے گی اور تینوں افواج کے درمیان برابری کا اصول ٹوٹ جائے گا۔” پاکستان، جو 25 کروڑ آبادی والا ایٹمی ملک ہے، طویل عرصے سے فوجی اثر و رسوخ اور جمہوری حکومت کے درمیان طاقت کے توازن کے بحران کا شکار رہا ہے۔
صدر کو مکمل استثنیٰ
ترمیم کے تحت صدر آصف علی زرداری کو بھی تمام فوجداری مقدمات سے استثنیٰ حاصل ہو گیا ہے، تاہم یہ تحفظ اس وقت ختم ہو جائے گا جب وہ یا کوئی سابق صدر مستقبل میں کسی سرکاری عہدے پر فائز ہوگا۔ زرداری ماضی میں بدعنوانی کے کئی مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں جن کی کارروائی پہلے ہی معطل کی جا چکی تھی۔ انہوں نے پارلیمانی منظوری کے فوراً بعد بل پر دستخط کر کے اسے قانون کا حصہ بنا دیا۔
عدلیہ پر قدغن
ترمیم میں ایک نئی “وفاقی آئینی عدالت” کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا ہے جو اب تمام آئینی مقدمات کی واحد مجاز عدالت ہوگی۔ اس اقدام سے سپریم کورٹ کے اصل اختیارات ختم کر کے زیر سماعت آئینی درخواستیں بھی اس نئی عدالت کو منتقل کر دی جائیں گی۔ مزید برآں، صدر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عدالتی کمیشن کی سفارش پر کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ کر سکتے ہیں، ایک شق جسے ناقدین عدلیہ میں اختلاف رکھنے والے ججوں کو نشانہ بنانے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ترمیم کو “جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل” قرار دیا۔ پارٹی کے ترجمان سید ذوالفقار بخاری نے کہا کہ “یہ اقدام عدلیہ کی آزادی کو ختم کر دے گا اور تمام طاقت ایک فوجی عہدے کے گرد مرکوز کر دے گا۔” پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ “صدر اور فوجی قیادت کو فوجداری استثنیٰ دینا غیرجمہوری عمل کی انتہا ہے”۔ اپوزیشن نے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بل کی کاپیاں پھاڑ کر احتجاج کیا۔ تاہم، سینیٹ میں چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا کہ “64 ارکان بل کے حق میں اور 4 مخالفت میں ہیں، اس طرح بل منظور کر لیا گیا ہے”۔ 336 رکنی قومی اسمبلی میں بھی بل دو تہائی اکثریت سے منظور ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…