اسلام آباد : پاکستان ایک بار پھر اُس دور کی دہلیز پر کھڑا ہے، جب ملک میں جمہوریت صرف نام کی رہ گئی تھی اور اصل طاقت فوج کے ہاتھوں میں تھی۔ اطلاعات کے مطابق، پاکستان کی حکومت آئین میں ایسی بڑی ترمیم کرنے جا رہی ہے جس کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے اختیارات میں بے تحاشہ اضافہ ہو جائے گا۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور کی یاد تازہ کر دی ہے، جب فوج نے اقتدار پر قبضہ کرکے جمہوری اداروں کو مفلوج کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے آئین میں 27ویں ترمیم کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جسے اس ہفتے پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس ترمیم کے بعد آرمی چیف کو تینوں افواج زمینی، بحری اور فضائیہ کا سربراہ قرار دیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں ایٹمی ہتھیاروں کی کنجی بھی براہِ راست جنرل منیر کے ہاتھ میں ہوگی۔
ترمیم کے تحت جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کا عہدہ ختم کر کے اس کی جگہ ایک نیا منصب چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) متعارف کرایا جائے گا، جو براہِ راست آرمی چیف کے پاس ہوگا۔ اس اقدام سے منیر نہ صرف دفاعی اداروں کے سربراہ ہوں گے بلکہ ملک کے سپریم کمانڈر کی حیثیت بھی اختیار کر لیں گے۔ ناقدین کے مطابق یہ تبدیلی پاکستان کو پچاس سال پیچھے لے جائے گی، جب جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ کر آمریت مسلط کی تھی۔
پاکستان کے آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ سینیٹ کے 96 رکنی ایوان میں اس کے لیے کم از کم 64 ووٹ درکار ہیں۔ حکمران اتحاد کے پاس فی الحال 65 ووٹ ہیں، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے 26، مسلم لیگ (ن) کے 20، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4، متحدہ قومی موومنٹ کے 3، عوامی نیشنل پارٹی کے 3، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے ایک ایک ووٹ اور 7 آزاد اراکین کے ووٹ شامل ہیں۔ تاہم، پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق، ان نمبروں کے باوجود ترمیم کی منظوری یقینی نہیں ہے۔ سینٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی ووٹ نہیں ڈال سکتے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عرفان صدیقی علیل ہونے کے باعث اسپتال میں داخل ہیں، لہٰذا ان کا ووٹ بھی غیر یقینی ہے۔
دوسری جانب 336 رکنی قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ اسمبلی میں حکومت کے پاس 233 ارکان ہیں، جبکہ اپوزیشن کے پاس 103 سیٹیں ہیں۔ حکمران اتحاد میں مسلم لیگ (ن) کی 125، پیپلز پارٹی کی 74، متحدہ قومی موومنٹ کی 22، مسلم لیگ (ق) کی 5، استحکامِ پاکستان پارٹی کی 4 اور بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پیپلز پارٹی و مسلم لیگ (ز) کی ایک ایک نشست شامل ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان ایک بار پھر فوجی تسلط کے شکنجے میں جکڑ جائے گا۔ اس سے نہ صرف جمہوری اداروں کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور دفاعی پالیسیوں پر بھی فوج کی مکمل گرفت قائم ہو جائے گی۔ عوامی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پاکستان واقعی جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے یا ایک نئے آمرانہ دور میں داخل ہونے والا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…