معروف امریکی مالیاتی ادارے جے پی مورگن نے گزشتہ ہفتے جاری اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ جیسے جیسے یہ بحران مغرب کی جانب بڑھے گا، اس کا اثر سب سے پہلے ایشیا پر پڑے گا، جبکہ اس کے بعد امریکہ اور یورپ متاثر ہوں گے۔عام طور پر خلیج فارس سے تیل کی ترسیل 10 سے 20 دن میں ایشیا پہنچتی ہے، جبکہ 20 سے 35 دن میں یورپ اور افریقہ تک پہنچتی ہے اور تقریباً 35 سے 45 دن کے بعد امریکہ تک تیل پہنچتا ہے۔
جے پی مورگن کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟
جے پی مورگن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغرب کی طرف بڑھتی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث سب سے پہلے ایشیا پر دباؤ بڑھے گا۔ رپورٹ کے مطابق آخری آئل ٹینکر 28 فروری کو آبنائے ہرمز سے روانہ ہوا تھا اور جنگ سے پہلے بھیجی گئی بیشتر کھیپ اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا کو زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس خطے میں تیل کی برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 41 فیصد کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ “تیل سے متعلق اصل چیلنج قیمت سے بڑھ کر اب حقیقی قلت میں تبدیل ہو چکا ہے۔”
افریقہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہوگا
جنوب مشرقی ایشیا کے بعد افریقہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہوگا اور اپریل کے آغاز تک اس کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں، تاہم یہ مقامی ذخائر اور درآمدی تیل پر انحصار پر منحصر ہوگا۔ جے پی مورگن کے مطابق دباؤ کے ابتدائی آثار نظر آنے لگے ہیں۔ کینیا میں ریٹیل سطح پر ایندھن کی کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ تنزانیہ کے پاس ابھی مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپ پر اس کے اثرات اپریل کے وسط تک محسوس ہونے کا امکان ہے، تاہم یورپ کے پاس مضبوط ذخائر اور متبادل سپلائی کے ذرائع موجود ہونے کی وجہ سے فوری بحران کا امکان کم ہے۔
امریکہ کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ پر اس بحران کا اثر سب سے آخر میں پڑے گا کیونکہ وہاں مقامی پیداوار کافی زیادہ ہے۔ اس لیے فوری طور پر شدید قلت کا امکان کم ہے، تاہم کیلیفورنیا میں سپلائی سے متعلق چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں اور مجموعی طور پر امریکہ کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…
وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…
ڈاکٹر کا الزام ہے کہ فلیٹ میں اتولیا سمیت 12 افراد موجود تھے۔ جیسے ہی…
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…
یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…
وزیراعظم مودی کے نام لکھے گئے خط میں ماہر تعلیم اور ممتاز دانشور پروفیسر اخترالواسع…