بین الاقوامی

Donald Trump on India: ٹرمپ کے متنازع بیان پر تنازع، بھارت کو ‘نرک’ کہنے کے بعد اب پی ایم مودی پر بھی کیا کمنٹ

نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے بھارت میں سیاسی اور سفارتی سطح پر شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ایک گفتگو کے ٹرانسکرپٹ میں بھارت، چین اور چند دیگر ممالک کو “ہیل ہول” یعنی “نرک” قرار دینے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا۔ اس بیان کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارت نے سخت اعتراض درج کرایا اور اسے غیر مناسب اور حقیقت کے منافی قرار دیا۔بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اس معاملے پر واضح ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف غلط ہیں بلکہ یہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات کی اصل تصویر بھی پیش نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تبصرہ بغیر مکمل معلومات کے کیا گیا ہے اور اس میں سنجیدگی اور سمجھداری کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔

تنازع بڑھنے کے بعد امریکی جانب سے وضاحت پیش کی گئی۔ نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ بھارت کو ایک عظیم ملک سمجھتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق، ٹرمپ نے کہا کہ بھارت ایک شاندار اور عظیم ملک ہے اور ان کے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اس وضاحت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ پورا معاملہ ایک کنزرویٹو سیاسی ٹاک شو سے جڑا ہے، جس کے ٹرانسکرپٹ کو خود ٹرمپ نے شیئر کیا تھا۔ یہ پروگرام معروف امریکی ریڈیو میزبان مائیکل سیویج کے شو میں نشر ہوا تھا، جہاں امریکہ کی پیدائش کی بنیاد پر شہریت دینے کی پالیسی پر بحث ہو رہی تھی۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والا ہر بچہ خود بخود امریکی شہری بن جاتا ہے، چاہے اس کے والدین کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔اسی بحث کے دوران یہ دعویٰ کیا گیا کہ بعض افراد دوسرے ممالک سے حمل کے آخری مراحل میں امریکہ آتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کو امریکی شہریت حاصل ہو سکے۔ اسی تناظر میں بھارت اور چین کے لیے “ہیل ہول” جیسا لفظ استعمال کیا گیا، جس نے شدید تنازع کو جنم دیا۔

ٹرمپ کے اس بیان پر بھارت کی سیاسی جماعتوں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اسے ملک کی توہین قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو امریکہ کے سامنے اٹھائیں۔ کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینتےنے بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو بھارت کے بارے میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں اور یہ ہر بھارتی کی توہین ہے۔مجموعی طور پر یہ معاملہ نہ صرف سفارتی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عالمی لیڈروں کے بیانات کے اثرات کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو بین الاقوامی تعلقات پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Cabinet Decisions:مودی کابینہ کے 3 بڑے فیصلے، کسانوں سے گرین انرجی اور دہلی ٹریفک تک بدل جائے گا نظام

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے تین اہم منصوبوں کو منظوری…

20 minutes ago

IND vs WI: بھارتی سرزمین پر مسلسل تیسرے ون ڈے میں سنچری، ریکارڈ بک میں درج ہوا کپتان گِل کا نام

بدھ کو گوہاٹی میں جاری مقابلے میں مہمان ویسٹ انڈیز نے ٹاس ہارنے کے بعد…

48 minutes ago