ٹوکیو: جاپان کے شمال مشرقی علاقوں میں لگی بھیانک جنگلاتی آگ پر قابو پانا حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایواتے کے جنگلات میں بھڑکنے والی آگ مسلسل پھیل رہی ہے اور جمعہ کی صبح تک تقریباً 1200 ہیکٹر رقبہ جل کر خاک ہو چکا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ جاپانی خبر رساں ایجنسی کیوڈو نیوز کے مطابق اوتسوچی ٹاؤن کے پہاڑی علاقوں میں بدھ کے روز شروع ہونے والی اس آگ نے رہائشی مکانات سمیت کم از کم آٹھ عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے تقریباً 2600 افراد کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جو اس قصبے کی مجموعی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ بنتے ہیں۔
آگ پر قابو پانے کے لیے ایواتے کی مقامی حکومت اور جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز متحرک ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ جنگلاتی علاقوں پر پانی گرایا جا رہا ہے جبکہ فائر بریگیڈ کے اہلکار زمین پر آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حکام نے ہنگامی بنیادوں پر دیگر صوبوں سے بھی مدد طلب کی ہے، جن میں ہوکائیدو، یاماگاتا، فوکوشیما، توچیگی اور نیگاتا شامل ہیں۔ دریں اثنا، اس صورتحال کو مزید پیچیدہ اس وقت بنا دیا جب حالیہ دنوں میں شمال مشرقی جاپان میں 7.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ جاپان موسمیاتی ایجنسی نے ایواتے سمیت سات علاقوں کی 182 بلدیاتی اکائیوں کے لیے ایک ہفتے کا خصوصی زلزلہ الرٹ جاری کیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آگ بجھانے کے دوران زلزلے کے ممکنہ خطرات کو بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جاپان میں سردیوں کے اختتام اور موسم بہار کے آغاز پر موسم انتہائی خشک ہو جاتا ہے، جس کے باعث درخت اور پودے نمی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہی خشکی جنگلاتی آگ کے تیزی سے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے، کیونکہ خشک ماحول میں آگ آسانی سے بھڑک اٹھتی ہے اور تیزی سے پھیلتی ہے۔ جاپان کے جنگلات کی ساخت بھی اس صورتحال میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ملک کا بڑا حصہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے جہاں چیڑ اور دیودار جیسے مخروطی درخت کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ان درختوں میں موجود رال (ریزن) نہایت آتش گیر ہوتی ہے، جس کے باعث آگ لگنے کے بعد اسے روکنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ گھنے جنگلات کی وجہ سے ایک بار آگ بھڑکنے کے بعد وہ تیزی سے ایک درخت سے دوسرے درخت تک منتقل ہو جاتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انسانی غفلت بھی اس طرح کے واقعات کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔ بغیر نگرانی کے جلائے گئے کیمپ فائر، زرعی سرگرمیوں کے دوران لگنے والی آگ، پھینکی گئی سگریٹ یا کسی آلے سے نکلنے والی چنگاری بھی جنگلات میں آگ بھڑکنے کا سبب بن سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر جاپانی حکام مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں جبکہ بے گھر ہونے والے افراد کے لیے عارضی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسم خشک ہی رہا تو آگ پر مکمل قابو پانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…
تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ…
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ…
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے ایس آر ایف ٹی آئی میں ہوئی…
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…
ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…