لبنان کے صدر جوزف عون نے جمعہ کے روز اپنے ملک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے امکان کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان فی الحال صرف امن کا خواہاں ہے، جب کہ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے کچھ حصوں پر قابض ہے۔ لبنانی صدر کا یہ بیان اسرائیلی وزیر خارجہ کے گزشتہ ہفتے دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے لبنان اور شام کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
لبنانی ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر عون نے ’’امن اور تعلقات کی بحالی ‘‘کے درمیان فرق واضح کیا۔ عرب تھنک ٹینک کے وفد سے خطاب کے دوران لبنانی صدر نے کہا کہ ’’امن، جنگ کی حالت نہ ہونے کا نام ہے اور یہی اس وقت لبنان کے لیے سب سے اہم ہے۔ جہاں تک تعلقات معمول پر لانے کی بات ہے، یہ فی الوقت لبنانی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔‘‘
لبنان کے علاقوں میں اسرائیلی افواج کی موجودگی پر کیا اعتراض
واضح رہے کہ لبنان اور شام 1948 سے اسرائیل کے ساتھ تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔ دمشق کی جانب سے بھی اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بات کو ’’قبل از وقت‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ لبنانی صدر عون نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدی علاقے میں ان پانچ مقامات سے اپنی فوج ہٹائے جہاں وہ اب بھی قابض ہے۔ ان کے مطابق لبنان کے ان علاقوں میں اسرائیلی افواج کی موجودگی ’’لبنانی فوج کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں تک مکمل تعیناتی میں رکاوٹ ہے‘‘۔
دریں اثنا امریکہ نے لبنان سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس پر لبنانی حکومت نے حال ہی میں اپنا جواب واشنگٹن کو ارسال کیاہے، تاہم اس کی تفصیلات اب تک واضح نہیں ہیں۔ تاہم لبنانی صدر کے بیانات سے اشارہ ملا ہے کہ وہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…
وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…
ڈاکٹر کا الزام ہے کہ فلیٹ میں اتولیا سمیت 12 افراد موجود تھے۔ جیسے ہی…
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…
یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…
وزیراعظم مودی کے نام لکھے گئے خط میں ماہر تعلیم اور ممتاز دانشور پروفیسر اخترالواسع…