بین الاقوامی

Nicolas Maduro captured: امریکی حملوں کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ گرفتار، ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک سے باہر منتقل کرنے کا کیا دعویٰ

واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی ہے، جس کے دوران وینزویلا کے موجودہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔

ٹرمپ کا دعویٰ: بڑی سطح کی فوجی کارروائی

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا: ’’ریاستہائے متحدہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کے رہنما صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کامیابی سے انجام دی ہے۔ مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔ یہ کارروائی امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے کی گئی۔ مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ آج صبح 11 بجے مار-اے-لاگو میں پریس کانفرنس ہوگی۔‘‘ واضح رہے کہ ٹروتھ سوشل پر یہ پوسٹ صبح 4 بجے کے آس پاس کی گئی ہے۔

بڑھتی کشیدگی کے درمیان کارروائی

ٹرمپ کی جانب سے مادورو کی گرفتاری کی تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی نکولس مادورو پر ’’منشیات دہشت گردی‘‘ پر مبنی حکومت چلانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

امریکی پابندیاں اور بحری کارروائیاں

امریکہ نے ان جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ وینزویلا کا تیل منتقل کر رہے تھے۔ اسی کے ساتھ امریکی فوج نے خطے میں وینزویلا کی کشتیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی تھیں، جن پر منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ٹرمپ نے مادورو سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وینزویلا امریکہ کے خلاف ’’سنگین اقدامات‘‘ کر رہا ہے۔

وینزویلا کا سخت ردعمل

دوسری جانب، وینزویلا کی حکومت نے ہفتہ کے روز ایک بیان جاری کر کے امریکہ کی جانب سے مبینہ فوجی کارروائی کو ’’عسکری جارحیت‘‘ قرار دیا اور اس کی شدید مذمت کی۔ بیان میں واشنگٹن پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا۔

شہری و فوجی مقامات پر حملوں کا الزام

وینزویلا کے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے دارالحکومت کراکس کے علاوہ میرندا، اراگوا اور لا گوایرا ریاستوں میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ حکومت نے اسے بین الاقوامی قوانین، بالخصوص اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعات 1 اور 2 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جو ریاستی خودمختاری اور طاقت کے استعمال کی ممانعت کرتی ہیں۔

وسائل پر قبضے کا الزام

وینزویلا نے الزام عائد کیا کہ یہ جارحیت ملک کے اسٹریٹجک وسائل، خصوصاً تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنے اور سیاسی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ بیان میں ’’ریجیم چینج‘‘ کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ وینزویلا دو صدیوں سے اپنی خودمختاری کا دفاع کرتا آ رہا ہے۔

قومی دفاعی اقدامات

حکومت نے اعلان کیا کہ بولیوارین نیشنل آرمڈ فورسز کو ملک بھر میں تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ خودمختاری اور امن کو یقینی بنایا جا سکے۔  ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، سیلاک (CELAC) اور غیر وابستہ تحریک میں باضابطہ شکایات درج کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہنگامی حالت کا اعلان

بیان میں کہا گیا کہ صدر نکولس مادورو نے آئین اور قومی سلامتی قوانین کے تحت قومی دفاعی منصوبوں کے نفاذ کا حکم دیا ہے اور پورے ملک میں بیرونی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فرمان بھی جاری کیا ہے۔

کراکس میں دھماکے، بجلی کی بندش

امریکی میڈیا کے مطابق ہفتہ کی صبح دارالحکومت کراکس میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد کئی علاقوں میں بجلی بند ہو گئی۔

کولمبیا کا ردعمل

ان پیش رفتوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’کولمبیا سلامتی کونسل کا رکن ہے اور اسے فوری طور پر اجلاس طلب کرنا چاہیے تاکہ وینزویلا کے خلاف امریکی جارحیت کی بین الاقوامی قانونی حیثیت طے کی جا سکے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

All India Unani Tibbi Congress: مدرسہ چچا نہرو علی گڑھ میں آل انڈیا یونانی طینی کانگریس کی جانب سے 159 ویں مفت یونانی طبی  کیمپ کا انعقاد

آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ…

21 seconds ago

Chief Minister’s Breakfast Scheme: تمل ناڈو کے اسکولوں میں اب طلبہ کو ملے گا ناشتہ، وزیراعلیٰ وجے نے بھی بچوں کے ساتھ کھایا، ویڈیو وائرل

تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…

3 hours ago