نیو یارک/واشنگٹن: امریکی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گیا ہے۔ ڈیموکریٹک سوشلسٹ زہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے میئر کا انتخاب جیت کر نہ صرف شہر کے پہلے مسلم میئر بننے کا اعزاز حاصل کیا، بلکہ ایک طویل سیاسی روایت کو بھی ختم کر دیا۔ ان کی جیت کو ”تبدیلی کا مینڈیٹ“ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے امریکی سیاست میں نئی روح پھونک دی ہے۔ سی این این کے مطابق، ممدانی نے اپنے انتخابی جلسے میں ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”نیو یارک، آج آپ نے تبدیلی کا مینڈیٹ دیا ہے — ایک نئی سیاست کے لیے مینڈیٹ، ایک ایسے شہر کے لیے مینڈیٹ جسے ہم برداشت کر سکیں اور ایک ایسی حکومت کے لیے مینڈیٹ جو واقعی عوام کے لیے کام کرے“۔
”مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے“
ممدانی نے اپنی جیت کو ”ناممکن کے خلاف فتح“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ہر اس شخص کی ہے جو ایک بہتر نیویارک دیکھنا چاہتا ہے۔ حامیوں نے ”زہران ، زہران“ کے نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے اپنے حریف اینڈریو کومو کی سیاسی اجارہ داری کے خاتمے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میرے دوستو، ہم نے ایک سیاسی سلطنت کو گرا دیا ہے۔ یہ جیت نیویارک کے ٹیکسی ڈرائیوروں سے لے کر باورچیوں تک، سب کی جیت ہے“۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ کبھی سٹی ہال کے باہر 15 روزہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے، ایک ٹیکسی ڈرائیور رچرڈ کے ساتھ۔ ”میرے بھائی، آج ہم سٹی ہال کے اندر ہیں“! انہوں نے جذباتی لہجے میں کہا۔ ممدانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ برسوں سے نیویارک کے ورکنگ کلاس افراد مالکان، نرسوں، مزدوروں اور طلبہ سے بات چیت کرتے رہے ہیں اور ان کی مہم انہی کے مسائل پر مرکوز تھی۔ ”یہ شہر آپ کا ہے اور یہ جمہوریت بھی آپ کی ہے“۔
عوامی ایجنڈا اور وعدے
مہم کے دوران ممدانی نے معاشی عدم مساوات اور زندگی کے بڑھتے اخراجات کے خلاف زور دار مہم چلائی۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ کرایہ داروں کے لیے کرایہ کم کیا جائے گا، سستی رہائش گاہیں تعمیر ہوں گی، بس سروس مفت اور تیز تر بنائی جائے گی، چائلڈ کیئر مفت فراہم ہوگی اور شہری ملکیت والے گروسری اسٹورز قائم کیے جائیں گے تاکہ خوراک کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے امیر طبقے پر ٹیکس میں اضافہ کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ اگرچہ ممدانی نے ابتدائی طور پر کوئی طویل خطاب نہیں کیا، تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں نیویارک سب وے کے دروازے پر ”سٹی ہال – زہران ممدانی“ لکھا ہوا نظر آیا، جسے ان کی فتح کا علامتی اظہار سمجھا گیا۔
”ڈیموکریٹک سوشلسٹ خیالات مقبول ہیں“
ڈی ایس اے کے قومی شریک چیئر عاشق صدیق نے کہا کہ ”یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ عوامی فلاح، مساوات اور انصاف پر مبنی سوشلسٹ نظریات اب مرکزی دھارے کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ انتخاب ایک طاقتور مثال ہے کہ عوامی سیاست جیت سکتی ہے“۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بروکلین میں ممدانی کے انتخابی دفتر پر جشن کا سماں تھا۔ نوجوان، خواتین، ٹیکسی ڈرائیور اور طلبہ نعرے لگا رہے تھے، جنہیں یہ جیت اپنی جیت محسوس ہو رہی تھی۔
قومی ردِعمل
امریکی سینیٹ کے اقلیتی رہنما چَک شومر نے کہا کہ نیویارک کے نتائج ٹرمپ ازم کے ایجنڈے کی واضح شکست ہیں۔ ”یہ نتائج ٹرمپ کے ظلم، انتشار اور لالچ کے ایجنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔ اگر ریپبلکن پارٹی اندھی تقلید جاری رکھنا چاہتی ہے تو کرے، لیکن باقی امریکہ آگے بڑھ چکا ہے“۔ دوسری جانب، سابق صدر براک اوباما نے نیویارک، ورجینیا اور نیو جرسی میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جب ہم ایسے قائدین کے گرد متحد ہوتے ہیں جو عوامی مسائل کو ترجیح دیتے ہیں، تو جیت یقینی ہوتی ہے۔ ابھی بہت کام باقی ہے، مگر آج کی رات مستقبل تھوڑا روشن دکھائی دیتا ہے“۔
ٹرمپ کا تلخ ردِعمل
دوسری طرف، ڈونلڈ ٹرمپ نے شکست پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹرتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ ”ریپبلکنز ہارے کیونکہ ٹرمپ بیلٹ پر نہیں تھے اور حکومتی شٹ ڈاؤن نے بھی ہمیں نقصان پہنچایا۔ یہی دو وجوہات تھیں“۔ نیو یارک کا یہ انتخاب محض ایک شہری انتخاب نہیں تھا — یہ امریکہ میں تبدیلی، تنوع اور عوامی سیاست کی جیت تھی۔ زہران ممدانی اب ایسے وقت میں سٹی ہال میں قدم رکھ رہے ہیں جب نیویارک کو رہائشی بحران، عدم مساوات اور مہنگائی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
ممدانی کے الفاظ میں
”یہ جیت صرف میری نہیں، بلکہ ہر اُس نیویارک میں رہنے والے کی ہے جو یقین رکھتا ہے کہ ایک بہتر، منصفانہ اور انسان دوست شہر ممکن ہے“۔
بھارت ایکسپریس اردو
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…