اسرائیل نے کیا غزہ میں حملہ کرنے کا دعویٰ
اس سے قبل، اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنرل سیکورٹی کے ادارے کے سربراہ رشید جحجوح کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ غزہ میں شہری دفاع نے جمعرات کے روز بتایا کہ “منگل کی صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 504 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں 190 سے زیادہ بچے ہیں”۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی یہ بتا چکے ہیں کہ فوج اس وقت غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر حملے کر رہی ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں فضائی اورزمینی حملوں کے دوبارہ آغازکو”مکمل طورپرسپورٹ” کررہے ہیں۔ بیان میں حماس کواس صورت حال کا ذمہ دارٹھہرایا گیا ہے۔ یہ بات وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولائن لیوٹ نے صحافیوں کوبتائی۔
غزہ میں اسپتالوں کی نازک صورت حال
دریں اثنا فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یواین آرڈبلیو اے نے کہا کہ امدادی سامان میں بڑی کمی کے درمیان غزہ کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ ادارے کے اہلکارنے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ سب سے طویل عرصہ ہے جب غزہ میں کوئی بھی سامان نہیں پہنچا ہے۔ جنگ بندی کے آخری چھ ہفتوں کے دوران ہم نے امدادی نظام کے طور پر جو پیش رفت کی تھی، اسے تبدیل کیا جا رہا ہے۔‘‘ اس دوران طبی سامان کا ایک ٹرک بھی غزہ کی پٹی میں داخل نہیں ہوا ہے۔ مزید ساحلی انکلیو میں ایندھن کی کمی صورت حال کو مزید خراب کر رہی تھی۔غزہ کے زیادہ تر اسپتالوں کو آنے والے دنوں میں ایندھن نہ ملنے کی صورت میں گرنے اور بند ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘ واضح رہے کہ 2 مارچ کو اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی میعاد ختم ہونے کے بعد غزہ میں تمام انسانی امداد کو روک دیا، جس میں خوراک، ادویات اور ایندھن شامل ہیں۔ اسرائیل کے اس قدم کی عالمی سطح پر مذمت ہوئی ہے۔ یورپی ممالک نے خبردار کیا کہ ناکہ بندی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔