بین الاقوامی

Netanyahu visits UAE: متحدہ عرب امارات پہنچے نیتن یاہو، صدر شیخ محمد بن زاید کی دعوت پر ہورہا ہے سرکاری دورہ، مختلف امور اور علاقائی چیلنجزپر تبادلۂ خیال

یروشلم: اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کی دعوت پر اتوار کو متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر (PMO) نے بتایا کہ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے پیر کو مقامی وقت کے مطابق ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کی دعوت پر گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ دورے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور علاقائی چیلنجز پر توجہ مرکوز کی گئی۔‘‘ PMO کے مطابق نیتن یاہو کے وفد میں قومی سلامتی کونسل کے سربراہ، موساد کے سربراہ، فوجی سکریٹری اور خارجہ پالیسی کے مشیر بھی شامل تھے۔

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا پس منظر

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی ایشیا میں کشیدگی جاری ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کی حکومت کے مستقبل میں خاتمے کی پیش گوئی کی تھی۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی قیادت کو اس کے ’’جھوٹ‘‘، ’’بدعنوانی‘‘ اور ’’ظلم‘‘ کے باعث اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی عوام ایک دن اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا ’’اس قاتل حکومت کو اس کے جھوٹ، بدعنوانی اور ظلم کے باعث ختم کردیا جائے گا۔ یہ بدکار حکومت زوال پذیر ہوگی۔‘‘ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ایران میں کسی بڑی تبدیلی کا رونما ہونا صرف وقت کی بات ہے اور ’’عوام کی طاقت اقتدار میں موجود لوگوں پر غالب آئے گی۔‘‘

ایران کے جوہری مراکز پر اسرائیلی کارروائی کا دفاع

اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا اور انہیں اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کئی ممالک نے نجی طور پر ایران کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کی تعریف کی، حالانکہ بعض رہنماؤں نے عوامی سطح پر ان پر تنقید کی۔ اپنے خطاب کے دوران نیتن یاہو نے ان مندوبین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کی تقریر کے آغاز پر اسمبلی ہال سے باہر چلے گئے تھے، اور ان مظاہرین پر بھی سوال اٹھائے جو اجلاس کے مقام کے باہر ان کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ نیتن یاہو نے سوال کیا ’’جب ایرانی آمر نہتے ایرانی شہریوں کے ہزاروں افراد کو قتل اور زخمی کر رہے تھے، تب آپ کہاں تھے؟‘‘ انہوں نے ان مظاہرین کو ’’نام نہاد انسانی حقوق کے مظاہرین‘‘ قرار دیا۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی کئی ممالک کے مندوبین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے باہر چلے گئے تھے، تاہم متحدہ عرب امارات کا وفد اپنی نشستوں پر موجود رہا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Asian Games 2026: نیرو ڈھانڈا نے ملک کو دلایا پانچواں گولڈ، خواتین کے ٹریپ انفرادی مقابلے میں رقم کی تاریخ

نیرو ڈھانڈا نے کوالیفکیشن راؤنڈ میں 118 کے اسکور کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی…

17 minutes ago

Sambhal Violence Case: سنبھل تشدد کے ملزم افروز کی این ایس اے حراست منسوخ، سپریم کورٹ کا یوپی حکومت پر 10 لاکھ روپے جرمانہ

سپریم کورٹ نے غیر قانونی احتیاطی حراست کا حکم جاری کرنے پر اتر پردیش حکومت…

2 hours ago