بین الاقوامی

Nepal General Elections 2026: نیپال میں پارلیمانی انتخابات: آر ایس پی کو برتری حاصل، بالیندر شاہ کے وزیر اعظم بننے سے کٹھمنڈو-نئی دہلی کے رشتوں پر کیا پڑے گا اثر؟

کٹھمنڈو/نئی دہلی: نیپال کے عام انتخابات میں راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی) نے تاریخی جیت حاصل کرلی ہے، جس کی قیادت 35 سالہ بالیندر شاہ کر رہے ہیں۔ یہ جیت نہ صرف نیپال کی پرانی سیاسی قیادت کے خاتمے کی علامت ہے بلکہ نئی نسل کے نیشنلسٹ اور ٹیکنوکریٹک قیادت کے ابھار کا بھی مظہر ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں نئی دہلی اور کٹھمنڈو کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انتخابات اور تاریخی جیت
5 مارچ کو ہونے والے عام انتخابات میں راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی) نے 165 میں سے تقریباً 110 نشستوں پر برتری حاصل کرلی ہے۔ اس پارٹی کے بہترین کارکردگی کے بعد نیپال کی روایتی سیاسی جماعتوں کا اثر کمزور ہو گیا ہے۔ یہ جیت جین زی کی قیادت میں احتجاجی تحریکوں اور 2025 میں کے پی شرما اولی کی حکومت کے خاتمے کے بعد آئی۔ اس دوران عوام نے روایتی جماعتوں کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اشارہ دیا۔ بالیندر شاہ نہ صرف ایک نئے وزیر اعظم کے طور پر ابھریں گے بلکہ وہ ٹیکنوکریٹک اور شفاف قیادت کے نمائندے بھی ہیں جو نیپال کے قومی مفادات کو مقدم رکھتی ہیں اور نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کو مساوات کی بنیاد پر دیکھتی ہے، نہ کہ تاریخی ذمہ داری کے طور پر۔

روایتی سفارتکاری کا خاتمہ
گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کی نیپال پالیسی نیپالی کانگریس اور سی پی این-یو ایم ایل جیسے روایتی سیاسی اداروں کے ساتھ مستحکم تعلقات پر مبنی رہی ہے۔ ان جماعتوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے نئی دہلی انہی سے رابطہ رکھتی تھی۔ تاہم موجودہ انتخابات کے نتائج نے یہ ڈھانچہ مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ بالیندر شاہ کے ابھرنے سے روایتی ڈپلومیٹک چینلز کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ کٹھمنڈو کے سابق میئر کے طور پر کام کرنے والے بالیندر شاہ نے اپنی سیاست میں سوشل میڈیا پر عوام سے براہ راست رابطہ قائم کیا اور روایتی ڈپلومیٹک چینلز کو نظر انداز کیا۔ ان کی کامیابی کا مطلب ہے کہ بھارت اب پرانے بیک چینل مذاکرات پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ بالیندر شاہ کا مینڈیٹ ٹرانسپیرنسی اور ‘نیپال فرسٹ’ پالیسی پر مبنی ہے، جس کے مطابق بھارتی سفارتکاروں کو نئے انداز کے مذاکرات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ممکنہ اثرات اور حساسیت
بالیندر شاہ نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ وہ سمبولک سوارینٹی کے تحفظ کے لیے ٹکراؤ سے گریز نہیں کریں گے۔ ان کی جانب سے جاری کیا گیا ‘گریٹر نیپال’ میپ اور کٹھمنڈو میں بھارتی فلموں پر عارضی پابندی ان کے پاپولسٹ نیشنلسٹ رجحانات کے ابتدائی اشارے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ممکنہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ، بالیندر شاہ کے پاس 1950 کی امن اور دوستی کی معاہدہ اور کالاپانی-لیپولیکھ سرحدی تنازعات جیسے حساس موضوعات پر سخت موقف اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ نئی دہلی کو ایسے کٹھمنڈو کے لیے تیار رہنا چاہیے جو ‘احتیاطی سفارتکاری’ کی بجائے ‘وکل سوارینٹی’ پر زیادہ زور دے۔

بھارت کے لیے مواقع
یہ تبدیلی مختصر مدت میں کچھ سفارتی مشکلات پیدا کر سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں بھارت کے لیے یہ موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ ایسے لیڈر کے ساتھ پرانے اور طویل عرصے سے زیر بحث مسائل حل کرے، جس کے پاس آخری اور ضروری فیصلے لینے کا مقبول مینڈیٹ موجود ہے۔ بالیندر شاہ کی قیادت میں بھارت-نیپال تعلقات ایک نئی جہت اختیار کر سکتے ہیں، جس میں روایتی ڈپلوماٹک چینلز کے بجائے ٹیکنالوجی، شفافیت اور مساوات پر مبنی تعلقات کی بنیاد رکھی جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Sara Tendulkar: سارہ تندولکر کا دلکش انداز، بھابھی کے ساتھ دیے پوز، مداحوں کو گنیش چترتھی کی مبارکباد

سارہ تندولکر نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان میں…

29 minutes ago

Maulana Arshad Madani on UCC: یو سی سی پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال، کہا- ملک آئین سے چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے سے؟

مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…

2 hours ago

UPI Charge Rule: یو پی آئی کے نئے قواعد، کس سے، کب، کتنا اور کہاں وصول کیا جائے گا چارج؟

حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…

2 hours ago